احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کتابوں میں درج ہے۔ گواہیان دین اور تصدیق کی (دیکھو اگر آنکھیں رکھتے ہو اور سنو اگر کان رکھتے ہو، براہین احمدیہ وازالہ اوہام وآئینہ کمالات وتحفہ گولڑوی وکشتی نوح وغیرہ کو) لیکن نہ مانا تو ان اہلحدیث نے یہاں تک کہ جو پچھلا مادہ یہودیت وعیسائیت کا دلوں اور دماغوں میں باقی رہ گیا تھا وہ سب مہمان پر اگل دیا اور جیسا کہ عالم فاضل یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بدزبانیوں سے ستایا تھا اور فتویٰ کفر کا لگایا تھا۔ اسی طرح اس مثیل المسیح کے مقابلہ میں محمد حسین بٹالوی نے جو کہ بڑا مفسد متعصب غیر مقلد اہلحدیث یہودیت کی رنگت میں سرتا پا غرق ہے فتویٰ کفر کا مرتب کرکے پہلے اپنے استاد نذیر حسین دہلوی سے جو کہ گزشتہ مہینہ میں اپنے نقش قدم پر چلنے والوں کو قدخلت کا سبق دے گئے ہیں۔ مہر کرائی اور پھر اپنے اور ہم سبقوں سے مہریں ودستخط کراکے شائع کردیا پھر کیا تھا چاروں طرف سے کفر کے فتویٰ نکلنے اور گالیوں کی بوچھاڑ ہونے لگی اور اخباروں واشتہاروں کی تو کوئی حد ہی نہ رہی۔ کوئی گندہ لفظ ایسا نہ رہا جو نہ لکھا ہو کوئی ناپاک فقرہ ایسا نہ رہا جو چھوڑ دیا گیا ہو۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ عیسائیوں سے دعویٰ قتل کا کرادیا اور خود اہلحدیث بن کر عیسائیوں کی طرف سے عدالت میں گواہی کو جاموجود ہوئے۔ جس سے بجز ذلت اور ناکامی کے کچھ فائدہ نہ اٹھایا دیکھو کتاب البریہ تاکہ تم لوگوں کی آنکھیں کھلیں اور خواب غفلت سے بیدار ہو اب سچے دل اور پاک نیت سے خوب غور کرکے دیکھو کہ کیا یہی تعلیم قرآنی ہے۔ کیا یہی اسلام کی نشانی ہے کیا احادیث سرور عالم فخر بنی آدمa کا یہی منشاء ہے۔ کیا اسی کا نام عامل بالحدیث ہونا ہے جو غیر مقلدوں سے سرزد ہوا ہے کیا اب بھی ان اہلحدیث کے اقوال وافعال اور دلوں اور باتوں اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں اور چہروں اور مہروں سے یہودیت نہیں ٹپکتی کیا اب بھی ان اہلحدیثوں کی تحریروں اور گفتگوئوں اور عقائد مشرکانہ اور حرکات جاہلانہ سے عیسائیت نہیں برستی۔ کیا اب بھی کوئی شبہ باقی ہے یا اب بھی انکار کا کوئی موقع ہے اور اس بات کو خوب سمجھ لو کہ یہ سلسلہ احمدیہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کا خدا خود مددگار ہے۔ کوئی اس کو مٹا نہیں سکتا کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ مخالفوں نے کیا کچھ زور نہیں لگائے۔ کیا کچھ فکریں نہیں کیں۔ آخر کو وہی ہوا جو خدا نے چاہا دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ اب ایک لاکھ سے بھی زیادہ نوبت پہنچ گئی ہے اور روزترقی افزوں ہوتی جاتی ہے ڈرو اس خدا سے جو سب پر غالب ہے ڈرو اس خدا سے جس کا عذاب سب عذابوں سے بڑھ کر ہے۔ وہی وقت قریب ہے جو طاعون سے