احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
اور تمام ملائکہ مقربین جن میں حضرت جبرائیل ومیکائیل واسرافیل وعزرائیل علیہم السلام بھی شامل ہیں جن کا اقرار بموجب آیہ کریمہ ’’کل آمن بااﷲ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘ ہمارا جزو ایمان ٹھہرا کتاب تقویتہ الایمان میں جو ان اہلحدیث کا دستور العمل ہے ان پاک اور مقدس نفوس کو لفظ مخلوق میں شامل کرکے اﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل بنا دیا تو اب جب کہ ان جلیل القدر نبیوں اور فرشتوں کا یہ مرتبہ ٹھہرا تو صحابہ کرام واولیاء عظام وصالحین ومجتہدین کس حساب میں رہے اور اب ہم نہیں سمجھ سکتے کہ بعد اس عقیدہ مذکور کے یہ غیر مقلد کس درجہ میں شمار کرنے کے قابل ہیں۔ کیا اب بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان اہلحدیث نے سنت یہود کو اختیار نہیں کیا۔ کیا اب بھی یہ لوگ یہودیوں سے پیچھے رہ گئے بلکہ یوں کہو کہ منزلوں آگے نکل گئے۔ یہاں تک تو صرف تھوڑا سا ذکر یہودیت کی مشابہت کا کیا گیا ہے۔ اب آگے عیسائیت کی صفات کا ملاحظہ فرمائیے اور وہ یہ ہیں کہ پادریوں بے چاروں نے صرف اس عقیدہ پر اکتفا کیا تھا کہ مسیحؑ صلیب پر چڑھ کر اپنے سچے عیسائیوں کے گناہ کا کفارہ ہوکر تین دن رات ہاویہ میں رہ کر آسمان پر اپنے باپ کے پاس جا بیٹھے لیکن یہ اہلحدیث مسلمان عقائد عیسائیت کے نشہ میں آکر کچھ ایسے مست ومدہوش ہوگئے کہ آگے دیکھا نہ پیچھے دوں کی جولی تو جھٹ حضرت عیسیٰ ؑ کو جیتے جاگتے اسی جسد عنصری کے ساتھ سیدھا آسمان پر چڑھا دیا۔ اور پھراسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان سے اترنے کے منتظر ہوبیٹھے اور پھر اس پر طرہ یہ کہ خالق الطیور ومحی اموات وغیرہ صفتوں سے بھی موصوف کردیا ۔ کیوں نہ ہو سچی عیسائیت اسی کا نام ہے۔ خیر یہاں تک بھی خیریت تھی۔ اب آگے اور سنئے کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو الوہیت کا ایک جزو قرار دیا اور یہ اہلحدیث جو جوش میں آئے تو دجال میں وہ وہ صفتیں ثابت کردیں جو کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہوسکتیں یہاں تک کہ نعوذ باﷲ منہا خدا بنا دیا۔ اگر چہ بظاہر اس کی خدائی کا تو اقرار نہیں کیالیکن وہ سب صفتیں جو خاص باری تعالیٰ کی ذات پاک سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس میں ثابت کردیں جیسے زندوں کو مارنا مردوں کو جلانا پانی کا برسانا کھیتی کا اگانا وغیرہ وغیرہ اور طرفہ یہ کہ اس کی پیشانی پر کافر بھی لکھا ہوا ہوگا اور باوجود کافر ہونے کے ساری خدائی کے اختیار بھی رکھتا ہوگا۔ اب کہئے کہ یہ مشرکانہ عقائد نہیں ہیں تو کیا ہے یہ نصرانیت کا جوش نہیں تو کیا ہے۔ یہ عیسائیت کی مشابہت نہیں ہے تو کیا ہے اگر اب بھی کچھ کسر باقی رہ گئی ہو تو وہ بھی پوری کرلو تاکہ دل میں کوئی ارمان باقی نہ رہ جائے۔