احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
میں داخل نہیں کرسکتے اوریہاں پر آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جن کو حق تعالیٰ نے چشم بینا گوش شنوادل زندہ دماغ روشن عقل سلیم فہم رسا عطا فرمایا ہے۔ وہ ہر ایک حکایت ہر ایک روایت ہر ایک شے ہر ایک ذرہ ہر ایک فطرت سے عبرت اور نصیحت حاصل کرلیتے ہیں اور جن کی آنکھیں اندھی کان بہرے دل مردے دماغ گندے عقلیں موٹی فہم کو تاہ ہیں ان کا ذکر ہی کیا ہے اور ان کا وعظ وپند میں حصہ ہی کیا ہے وہ تو آیت کریمہ ’’ختم اﷲ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ‘‘ کی تحت میں داخل ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس شرط کے لگانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید آپ کے نزدیک وہ قول یا فعل یا خبر یا پیشینگوئی خواہ کسی نبی کی ہو یا ولی اور خواہ قبل از نزول قرآن مجید ہوئی ہو یا بعد میں اور خواہ وہ قبل از جمع ہونے احادیث رسول اﷲa ہوئی یا بعد میں اس وقت تک قابل اعتبار واستدلال نہیں ہے جب تک کہ وہی قول یا فعل یا خبر یا پیشینگوئی ہوبہو لفظ بالفظ قرآن مجید یا احادیث رسول اﷲa میں آپ کے ملاحظہ اقدس سے گزرا نہ دیا جائے اگر آپ کا یہی عقیدہ ہے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ اس عقیدے کی رو سے کوئی اہل اسلام کسی فریق مخالف پر فتح نہیں پاسکتا اور حق وباطل میں فرق کرکے نہیں دکھلا سکتا تا وقتیکہ انہیں کی کتابوں انہیں کے قول اور فعلوں اور خبروں سے ان کے دلائل کو توڑ کر ٹکڑے نہ کردے تو اب بجز اس کے کہ ہم آپ کی اس شرط لگانے کو آپ کی عدم استعداد یا سادہ لوحی پر محمول کریں یا آپ کے کسی حیلہ باطنی پر مبنی سمجھیں اور کیا کہہ سکتے ہیں تیسرے یہ کہ اگر آپ حق کی تلاشی اور صدق کے طلبگار ہوتے تو ان امور پر بحث کرتے اور ثبوت مانگتے جن کا حوالہ قرآن شریف اور احادیث رسول اﷲa سے دیا گیا ہے لیکن آپ نے اس پر کچھ التفات نہ کیا تو اب فرمائیے کہ یہ یہودیت کی مشابہت ہوئی یا نہیں۔ کیا قرآن مجید کی آیتیں آپ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں کیا احادیث رسول اﷲa آپ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔ کیا اقوال صحابہ، وائمہ مجتہدین ومجددینؒ آپ کے سامنے پیش نہیں کئے گئے کیا بندگان دین اور اولیاء اﷲ کے الہامات ومکاشفات ورویائے صادقہ آپ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں کیا عسل مصفیٰ کا مطالعہ آپ نے نہیں کیا۔ کیا آپ نے ان پیش کردہ ثبوتوں پر کچھ توجہ فرمائی۔ کیا آپ نے آیات الٰہی کو قبول کیا۔ کیا آپ نے احادیث رسول اﷲaکو نظرووقعت سے دیکھا۔ کیا آپ نے اقوال صحابہ وائمہ ومجتہدین ومجدین کو غور سے پڑھا کیا آپ نے اولیاء اﷲ کے الہامات ومکاشفات ورویائے صادقہ پر کچھ غوروخوض کیا ہرگز نہیں کیا بلکہ کچھ بھی نہیں کیا آپ نے تو ان سب کو پس پشت ڈال دیا اور ان سے منہ پھیر لیا۔ افسوس صد افسوس سوجھی تو کیا سوجھی یعنی وہ سوال جو یہودیوں نے