احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
لیکن آپ نے عوام الناس کے بہکانے کے واسطے اس سوال کو پیش کرکے جواب طلب کیا تاکہ جاہلوں میں بیٹھ کر اس کہنے کا فخر حاصل ہوجائے کہ ہم نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے دعوے کی تصدیق قرآن وحدیث رسول اﷲa سے چاہی لیکن ان کی جماعت سے کوئی شخص نہ کرسکا تو اب میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ خالق باری کی فلاں بیت بہت اچھی ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بیت ہم کو گلستان میں دکھلا دو تو ہم اس کے اچھے ہونے کا اعتبار کرسکتے ہیں یا مثلاً کوئی کہے کہ دارمی یا نسائی کی فلاں حدیث صحیح ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث ہم کو بخاری میں دکھلا دو تو ہم اس کی صحت کے قائل ہوسکتے ہیں یا مثلاً کوئی کہے کہ گورنمنٹ ہند نے فلاں فلاں قانون بہت مفید جاری فرمایا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قانون ہم کو سلطان روم کی ممالک میں دکھلا دو۔ یامثلاً کوئی کہے کہ سورہ بقرہ میں آیت الکرسی بہت متبرک آیت ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ آیت ہم کو سورہ یٰسین میں دکھلا دو تو ہم اس کی فضیلت کا اقرار کرسکتے ہیں۔ یا مثلاً کوئی کہے کہ زمین پر جو دریا جاری ہیں ان سے مخلوق کو بہت نفع پہنچتا ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دریا ہم کو آسمان پرجاری دکھلا دو تو ہم مان سکتے ہیں اور ان کی نفع رسانی کے قائل ہوسکتے ہیں۔ ان مثالوں کے بیان کرنے سے تو آپ اپنے سوال کا جواب بخوبی سمجھ گئے ہوں گے۔ لیکن یہاں پر آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے جو دعویٰ مثیل مسیح ہونے کا فرمایا ہے اور جو دلائل وثبوت اس کی تائید میں تحریر فرمائے ہیں تو وہ دلائل وثبوت کسی خاص قوم یا فرقہ کے مقابلہ میں نہیں لکھے گئے ہیں بلکہ تمام دنیا کے کل مذاہب کے لوگوں جیسے یہودونصاریٰ ہنود وغیرہ اور کل فرقہ کے لوگوںو جیسے آریہ، برہمو، مقلد غیر مقلد وغیرہ کو مخاطب ٹھہرایا گیا ہے اور ہر مذہب کے موافق دلائل اور ثبوت پیش کردئیے گئے ہیں۔ اب ان میں سے ہر شخص ہر مذہب والا اپنے اصول کے موافق استنباط کرکے ان کی رو سے سوال وجواب بحث مباحثہ کرکے اپنی تسکین کرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ دعوت عام ہے نہ کہ خاص کسی ایک مذہب کے لوگوں کے لئے لیکن آپ نے ان آیات قرآن مجید اور احادیث رسول اﷲa سے جو اہل اسلام کے مذہب کے موافق پیش کی گئی ہیں کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور ان کو چھوڑ کر اس سوال کواختیار کیا کہ جو یہودیوں نے کیا تھا جس کی تصدیق توریت اور انجیل سے ہوتی ہے تو اب ہم حیرت میں ہیں کہ آپ کو کس مذہب اور کس فرقہ میں شمار کریں تا وقتیکہ ہم کو آپ سے کوئی دستاویز خاص آپ کے اصل مذہب کی بابت حاصل نہ ہوجائے تب تک ہم آپ کو اپنی رائے سے کسی فرقہ