احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
واحمد رکھا اور مجھے آنحضرتa کا ہی وجود قرار دیا۔ میں ظلی طور پر محمدa ہوں۔ میں بروزی طور پر محمدa ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی معہ نبوۃ محمدیہ میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوۃ کا دعویٰ کیا۔ آنحضرتa نے خواب میں مجھے فرمایا۔ ’’سلمان منا اہل البیت علی مشرب الحسین‘‘ میرا نام سلمان رکھا۔ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں۔ ورنہ اس سلمان پر دو صلح کی پیشین گوئی صادق نہیں آتی۔ حضرت موسیٰ کا یشوعا بروز تھا۔ ممکن ہے کہ آنحضرتa نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوۃ کا بھی اظہارکریں۔ مجھے بروزی صورت نے نبی ورسول بنایا ہے۔ اسی بناء پر خدا نے باربار میرا نام نبی اﷲ ورسول اﷲ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیa ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد واحمد ہوا۔ پس نبوۃ ورسالۃ کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد ہی کے پاس رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام وغیرہ۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۳ص۴۳۱تا۴۴۲) اس زور شور سے تو مرزاقادیانی نے اپنی نبوۃ ورسالت کا دعویٰ چھ صفحہ کلاں کے اشتہار میں کیا پھر اس کو ۱۰؍نومبر ۱۹۰۱ء کے اخبار الحکم میں شائع کیا۔ لیکن آفرین ہے امروہی کے دین وایمان وفہم پر کہ وہ اپنے پراز الحاد وعناد بنام نہاد رقیمۃ الوداد میں اوّل تو بظاہر مرزاقادیانی کے ان تمام دعاوی سے انکار کرتا ہے اور جو کوئی کہے کہ مرزاقادیانی نے دعویٰ نبوت ورسالت کیا ہے ۔اس کو بیجا الزام لگانا جہالت وتقویٰ اﷲ کے خلاف بتایا ہے اور بعد میں وہی مرزاقادیانی کے ظلی وبروزی نبی ورسول ہونے کی حمایت میں اپنے علم وفضل کا نمونہ دکھایا ہے اور جس طرح مداریوں ناٹک ومسمریزم والوں کے معمول بہ ویسی ہی بولی بولتے ہیں جیسی ان کے عامل ۔ اسی طرح امروہی وہی مرزا والی بولی بولا ہے۔ حافظ محمد یوسف کے ساتھ اس قدر عرصہ کی ملاقات ومحبت کا مقتضاء تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ ان کے کارڈ کا جواب نرمی صبر وتحمل سے بھیجتے۔ لیکن مرزائی سلسلہ میں صبر وتحمل وانسانیت کہاں؟ اسی لئے امروہی نے اپنے امام ومرشد بلکہ روحانی باپ مرزا کے تکبر شیخی وشہرۃ طلبی میں رنگین ہوکر اپنے اظہار فضیلت کے اور بڑے فخر وشیخی سے اپنے خط کو اخبار الحکم ۲۴؍نومبر ۱۹۰۱ء میں ص۹ سے۱۴ تک شائع کیا۔ اس میں چند فقرات مرزاقادیانی کے انکار نبوۃ مستقل کے اور اپنی طرف سے تین مقدمات دربارہ الہامات ومعنی نبی ولفظ رسول اور الہامات براہین احمدیہ کے درج کر کے لکھا ہے۔