احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
۱… حافظ صاحب خدا آپ کا حافظ ہو۔ جواب… آمین ثم آمین! حافظ صاحب کا تو اﷲتعالیٰ ہمیشہ حافظ وناصر رہا۔ ان کو ابتداء عمر میں بعنایت وتائید الٰہی قرآن مجید کے حفظ کی نعمت میسر ہوئی۔ بعد میں اپنے اور اپنے عیال واطفال کے لئے دیانت وامانت سے ملازمت کرتے رہے۔ کسی کے دست نگر نہ ہوئے اور نہ کبھی کسی سے چندے وقیمت کتاب وغیرہ کے بہانے سے روپیہ اینٹھا۔ بلکہ خود سائلوں اور مانگنے والوں کی خدمت کرتے اور روپیہ دیتے رہے۔ بعد ملازمت کے باعزت وآبرو پنشن لے کر خانہ نشین اور یاد الٰہی میں مصروف ہوگئے اور جو مؤمن مسلمان مطیع اﷲ ومتبع رسول وسالک سبیل المؤمنین متوکل علی اﷲ ہوتا ہے اﷲ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس کی ویسی ہی حفاظت فرماتا ہے۔ ۲… امروہی لکھتا ہے کہ حافظ صاحب یا تو مرزااور ہماری طرف سے مباہلہ کرنے کو تیار تھے یا اب ہماری ملاقات تک پسند نہیں فرماتے۔ حالانکہ مخالفین اسلام عیسائی وآریہ وغیرہ ہم سے برغبت تمام ملتے ہیں۔ جواب… جو شخص خود صادق وراست باز ہوتا ہے دغا وفریب کا نام نہیں جانتا وہ دوسرے شخص پر بھی خصوصاً جب کہ وہ بہ لباس اسلام وظاہر کلمہ گو ہو ایسا ہی خیال کرتا ہے۔ اسی لئے ایک حافظ محمد یوسف صاحب کیا بہت سے مسلمان اس وقت مرزاقادیانی کے حمایتی وطرفدار تھے۔ جب کہ مرزا قادیانی دین اسلام وقرآن مجید کی محبت و خدمت کا دعویٰ کر کے مخالفین اسلام سے بحث ومباحثہ کا دم مارتا تھا۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ مرزاقادیانی منافقانہ اس بہانہ سے آمدنی وخوش گزارنی کے لئے اپنی دوکان بنا رہا ہے اور کام چل نکلنے پر بعد میں دین اسلام کا دشمن بن کر اس کے مسلمہ وحقہ مسائل کو خود غرضی سے ترمیم وتنسیخ کر کے خود مورد ومخاطب آیات قرآنی بن کر نبی ورسول بن بیٹھے گا۔ اب جب مرزاقادیانی اور اس کی جماعت کے یہ لچھن ظاہر ہوئے تو قدیمی اسلام کے دلدادہ سچے اور پکے مسلمان فوراً مرزاقادیانی سے متنفر وبیزار ہوکر علیحدہ ہوگئے اور یہی عین ایمان واسلام کا تقاضا تھا۔ کیونکہ مؤمنین مسلمین تو ’’الحب للّٰہ والبغض للّٰہ‘‘ کی جہت سے مرزاقادیانی کے حمایتی اور اس سے موافق تھے۔ جب وہ جہت باقی نہ رہی تو پھر ملاقات واتفاق کیا؟ رہا مخالفین اسلام سے ملنا سو اس میں اسلام ومسلمانوں کا کچھ نقصان نہیں۔ سب مسلمان جانتے ہیں کہ ہمارا ان کا طریق ودین الگ الگ ہے۔ حسن معاشرت وخوش اخلاقی کا اسلام میں حکم وتاکید ہے۔ لیکن مرزاقادیانی اور مرتدین بہ لباس وصورۃ اسلام زبان سے ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ مسلمانوں کو سنا کر پھر اپنے ملحدانہ نیچریانہ فلسفیانہ خیالات ومسائل سے قرآن مجید کی تفسیر بالرائے