احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
ثبت ہیں کہ واقعی حضرت مسیح کی قبر یہاں ہے گو دانا لوگ تو ہنستے ہیں کہ کہاں یوذاسف اور کہاں یسوع آصف اور کہاں انیس صدیوں کا واقعہ اور کہاں آ ج کل کے اہالی کشمیر کی تصدیق۔ مگر مرزا کو تو ایسے دانائوں سے کام نہیں۔ وہ تو احمقوں کی خیر مناتا ہے جو اس کے دام تزویر میں پھنسیں۔ اس لئے خدا نے اپنے ایک بندے جناب مولوی نور احمد صاحب ساکن موضع لکھو کے ضلع فیروز پور کو توفیق دی کہ انہوں نے کشمیر جاکر بحکم بدرابدر ’’اندر بایدرسانید‘‘ مسیح کاذب کا کذب طشت ازبام کرہی دیا۔ یعنی وہاں کے معزز لوگوں کی دستخطی شہادتیں لائے کہ مرزا جھوٹ کہتا ہے۔ یہاں حضرت مسیح کی قبر ہرگز نہیں۔ چنانچہ وہ شہادتیں درج ہیں۔ اصل مفصل شہادتیں فارسی زبان میں ہیں۔ مگر ہم نے عام فہم کے لئے اردو میں ترجمہ کیا ہے اگر کسی کو اصل دیکھنی ہو تو انجمن نصرت السنہ امر تسر کے دفتر سے دیکھ سکتا ہے۔ سب سے پہلے جناب مولوی رسول بابا صاحب میر واعظ فرماتے ہیں کسی مؤرخ نے نہیں لکھا نہ کسی شخص سے سنا گیا کہ اس جگہ (کشمیر میں) حضرت عیسیٰ ؑ کی قبر ہے۔ حاشا وکلاء۔ ’’مفتی واعظ رسول عفی عنہ، نعمت اﷲ، محمد شاہ مفتی کوٹھی دار مقام روضہ مل خانیار، منشی محمد دلاور شاہ سکنہ خانیار، مفتی محمد شریف الدین، غلام محمد احمد قادری، غلام مصطفی خانیاری، غلام یٰسین حسین قادری، میر یوسف قادری۔‘‘ مرزا قادیانی اپنے دعوے میں (کہ کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر ہے۔) جھوٹا ہے اور سخت گمراہ اور مفتری، صحیح الاعتقاد مسلمان تو اس کی واہیات باتوں پر کان بھی نہ رکھیں گے۔ مفتی یوسف شاہ صاحب، مفتی جلال الدین صاحب، مفتی سعد الدین صاحب، مفتی سیف الدین صاحب، مفتی نور الدین صاحب، مفتی ومولوی صدر الدین صاحب۔ کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر نہیں اور کسی نے یہاں سے اس مضمون کی تحریر (مرزا کو) دی ہے کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں ہے (وہ سب اس کا دروغ بے فروغ ہے) مفتی ضیاء الدین صاحب، احمد شاہ عفی عنہ، محمد یوسف شاہ، حقیر غلام محمد عفی عنہ، پیر قمر الدین صاحب سجادہ نشین، سید کبیر صاحب سجادہ نشین، احسن صاحب ایشانی، پیر غلام مصطفی صاحب تارہ بلی، غلام محمد عاصم صاحب عالیکدلی، پیر علی شاہ۔ مواہیر خادمان خانقاہ معلی جوشہادت دیتے ہیں کہ کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر نہیں اور جو بعض جاہلوں (مرزائیوں) میں مشہور ہے کہ محلہ خانیار میں قبر یوذاسف کو حضرت عیسیٰ کی قبر قرار دیتے ہیں۔ غلط