احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کہ دیکھو وہ موعود ہے یہ پسر تھے ہم دے چکے جس کی پہلے خبر عقیقے پہ اس کے ہوئی دھام دھام ہوا قادیان میں بڑا ازدہام چہک کر بھی بلبل نے دیکھا نہ باغ ہو ایک ہی سال میں گل چراغ وہ منحوس جو نام کا تھا بشیر ہوا جدا کنج لحد میں اسیر تو دجال نے اور اک چال کی جڑی اس پہ تاریخ نو سال کی یہ مرنے ہی والا تھا جو مر گیا جو ہے رہنے والا وہ پھر آئے گا بجائے نو۹ گزرے اب ۱۴ برس کہ چپ ہیں مسیحائے کاذب نفس پسر گو ہیں دو چار موجود اب ولیکن ہے دل میں یہ دھڑکا غضب وہ موعود ان میں کہوں اب کسے مبادا وہی کل کو پھر چل بسے سوا سال میں پھر نہ آتھم ہوا نہ کچھ جانب حق وہ مائل ہوا تجھے لعنت و روسیاہی ملی کہ ہر چار سو سے گواہی ملی یہ ہے عبد حق غزنوی کی دعا کا اثر ارے کاذب قادیان ڈوب مر کیا واسطے جس کے بیٹوں کو عاق زن صاحب اولاد کو دی طلاق وہ عورت بھی مرزا نہ تجھ کو ملی ملا خاک میں مدعائے دلی کیا جس کا ملہم نے تجھ سے نکاح وہ برسوں سے سلطان کو ہے مباح مریدو ہے یہ بھی کرامت کوئی مسیح زمان کی علامت کوئی فاف لکم ثم اف لکم ہوئے شرم وغیرت سے بیگانہ تم ارے قادیانی یہ کیا بات ہے عجب شرم والی تری ذات ہے ترے منہ میں دے برملا خاک وہ کہے تو نہیں شوخ وبے باک وہ اسے اپنے گھر میں تو دلشاد دیکھ اسے دیکھ اور اس کی اولاد دیکھ مرے قول میں گر تو سمجھے قصور کمر باندھ پٹی نہیں ایسی دور میرے ساتھ چل سب دکھا دوں تجھے جو سننے کی ہو وہ سنا دوں تجھے اگر دل میں کچھ تجھ سے ڈرتا ہے وہ تو کیوں ایسی شوخیاں کرتا ہے وہ جو تو اس کو شوخی سمجھتا نہیں تیری سادہ لوحی پہ صد آفرین وہ جعفر کو تیرہ مہینوں کا ڈر شغالانہ بھبکی تھی اک سربسر