احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کیا گزرا نصف مہ جنوری ۱۹۰۰ء ملی خاک میں رملی افسون گری نہ پہنچی اسے کوئی ذلت نہ رنج تیرے منہ میں خاشاک اے باد سنج وہ پہلے سے ہے اور آسودہ حال پڑے تجھ پہ الٹے بہت سے وبال بہ فضل خدائے حمید ومجید ہے سرکار میں عزت بو سعید خدا نے کیا ان کو خوش کام وشاد مربع ملے چار حسب مراد ترے باپ دادا زمیندار تھے بڑے خیر خواہاں سرکار تھے طفیل ان کے تو آج حارث بنا ہوئی تیرے حق میں یہ مدح وثناء محمد حسین اب زمیندار ہیں کھٹکتے تیری آنکھ میں خار ہیں انہیں یہ جراثت ہے ذلت مگر ارے شرم کر شرم کر شرم کر ہوا اہل عزت میں ان کا شمار جزا کیسی اور روسیہ جھک نہ مار کہاں تک گنوں تیرے الہام میں کہ سرتا بپا افترا کذب ہیں گیا ضلع کی تو کچہری میں جب ہوا تجھ پر نازل خدا کا غضب یہ ثابت ہوا ہے تو جھوٹا نبی تیرے ہی قلم سے تیری رگ کٹی ہوئی بولتی بند الہام سے تو مستعفی اپنے ہوا کام سے وہاں تو نے تحریر دی اے اشرّ کہ اب ایسے الہام ہوں گے نہ پھر مکدر کہے کشف عیسیٰ کو تو تیرے منہ میں آتا ہے کیا کذب گو غضب ہے مکدر ہو کشف مسیح تیرا کشف ہو لیک صاف وصریح مسلمان تو کہلائے او بے حیا لکھے یوں کہ وہ خاتم الانبیاء نہ سمجھے نہ سمجھایا الہام کو نبی آئے تھے اور کس کام کو نہ عیسیٰ کو سمجھے نہ دجال کو نہ اس کے گدھے ریل کی چال کو مگر تجھ پر سب منکشف ہوگیا ارے کچھ تو کر دل میں شرم و حیا اگر یوں ہی اصرار تیرا رہا رسالت کا ایسا ہی دعویٰ رہا عذاب آئے تجھ پر تعجب نہیں اس زندگانی میں اک دن یہیں اگر دارودنیا میں امہال ہے تو پھر آخرت میں برا حال ہے قیامت کی پیشی ہے بس پر خطر وہ ساعت بلاکی ہے ادہیٰ و امر جو حق پر کیا کرتے ہیں افتراء ہے واں حال ان کا بہت ہی برا