احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
انا ربکم تھی صدا برملا بہت دیر تک اس کا دعویٰ چلا یہ پیش آئی جب تک مسمی جل تعیش میں اس کے نہ آیا خلل مگر دیکھ آخر ہوا وہ ہلاک یہ امہال حق ہے بہت خوف ناک فقط مدعی نبوت ہے تو نہیں وہ بھی اسلام کے روبرو کہیں اس پر تحدیث کا ہے غلاف کہیں لفظ جزی کی لاف و گزاف حقیقت میں دعوائے رسالت کا ہے بظاہر طریق استحالت کا ہے نبی تو ہوں میں لیک گھٹیا نبی یہ کیا چال ہے دین سے اجنبی ہوئے کورو کر گنگ تیرے مرید کہ لی عقل کی سب نے تجھ سے رسید جو عیسائی عیسیٰ کو ابن خدا پکاریں تو گمراہ ہیں بے خطا بجائے ولد کادیانی ہوگر کہیں اس کو قرب خدا بے خطر شتر مرغیاں ہیں تیری بے حساب کہ شاہد ہے اس پر تری ہر کتاب کبھی تو خدا بنتا ہے بے سخن ترا کن بھی بالکل خدا کا ہی کن مگر ابن مریم کا خلق طیور ہے توحید میں موجب صد فتور جہاں ساتھ ہے اس کے اذن خدا غضب ہے تو اس کو نہیں مانتا جہاں دعویٰ ہے وحی والہام کا نہیں بولتا ہچکچاتا ذرا میری وحی بھی انبیاء کی ہے وحی مجھے پاک اﷲ نے دی ہے وحی کہ اس میں ذرا دخل شیطان نہیں پھر اس وحی کی حدوپایاں نہیں کہ مانند بارش ہے مجھ پر نزول ترے منہ میں او مفتری خاک دھول بتا اب پیمبر تو کیونکر نہیں یہ سب جھوٹ ہے ’’میں پیمبر نہیں‘‘ رہی کیا رسولوں سے تجھ میں کمی وہ کہتے تھے ہم بھی ہیں اک آدمی مزیت یہی ہے کہ یوحی الیٰ بتا گر سوا اس کے کچھ اور ہے ہے رمالیوں نے ڈبویا تجھے ارے دین ودنیا سے کھویا تجھے ملی روسیاہی تجھے بار بار مگر باز آیا نہ تو زینہار پسر کا تھا اعلان دختر ہوئی وہ دختر بھی آخر نہ جان بر ہوئی پسر پھر جب آیا بڑے زور سے تو پنجاب کو بھر دیا شور سے