احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
تحریر سے بالکل متفق ہیں کیونکر مرزا قادیانی بذات خود اپنے اشتہار بعنوان پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی توجہ دلانے کے لئے آخری حیلہ کے (ص۳ سطر ۲۵؍مورخہ ۲۸؍اگست ۱۹۰۰ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۵۳) میں لکھتے ہیں۔ ’’اور یاد رہے کہ لاہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے پندرہ یا بیس آدمی سے زیادہ نہیں۔‘‘ پس مرزا قادیانی کی اس تحریر کے مطابق معلوم ہوا کہ آپ کے پیروئوں کی تعداد ایسے بڑے شہر لاہور میں جو پنجاب کا دارالخلافہ ہے صرف پندرہ یا بیس ہے۔ اگر اسی تناسب سے ہندوستان کے بڑے بڑے سو شہر لاہور کی مانند فرض کئے جاویں اور پندرہ مریدفی شہر بحساب اوسط شمار کئے جاویں تو یہ تعداد جو سول ملٹری گزٹ نے مردم شماری کی رو سے لکھی ہے عین درست نکلتی ہے۔ محاسب حساب کرکے دیکھ لیں عیاں راچہ بیاں۔ ۳… مرزا قادیانی کی نویں پیشینگوئی قادیان کے ایک ہندو بشمبر داس نام کے فوجداری مقدمہ کے متعلق تھی۔ یعنی بشمبر داس ایک سال کے لئے مقید ہوگیا تھا۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس کے بھائی شرمپت نام نے جو سرگرم آریہ ہے مجھ سے دعا کی التجا کی اور پوچھا کہ ’’اس کا انجام کیا ہوگا۔ میں نے دعا کی اور کشفی نظر سے دیکھا کہ میں اس دفتر میں گیا ہوں جہاں اس کی قید کی مثل تھی۔ مثل کھولی اور برس کا لفظ کاٹ کر اس کی جگہ چھ مہینے لکھ دیا اور پھر مجھے الہام سے بتالایا گیا کہ مثل چیف کورٹ سے واپس آئے گی اور برس کی جگہ چھ مہینہ رہ جائے گی۔‘‘دیکھو مرزا قادیانی کا اشتہار بعنوان (لیکھرام کی موت کی نسبت آریہ صاحبوں کے خیالات مورخہ ۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۶۲) پس بہتر ہو کہ جس طرح آپ نے چیف کورٹ کے اس دفتر میں جہاں ملزم کی مثل تھی۔ کشفی طور پر گھس کر اور مثل کھول کر ایک برس کی قید کا لفظ کاٹ کر چھے مہینہ لکھ دئیے۔ اسی طرح سول ملٹری گزٹ کے دفتر میں گھس کر اس کی آفس فائل میں ۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء کی کے پیپر میں جہاں آپ کے پیروئوں کی تعداد از روئے مردم شماری صرف ایک ہزار سے کچھ اوپر لکھی ہے۔ یہ عبارت کا ٹکڑا اس کی جگہ ایک لاکھ سے زیادہ لکھ دیں اور یہ آپ کے نزدیک چنداں مشکل امر نہ ہوگا۔ تف ہے آپ کو ایسی لغو پیشینگوئیوں پر اور حیف ہے ان لوگوں پر جو اس قسم کی بکواس کو پیشینگوئی سمجھیں۔ اگر اسی کا نام پیشینگوئی ہے تو وکلاء بلکہ ان کے منشی آپ سے بڑھ کر پیشینگو ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی کے پیروئوں کی تعداد جو اخبار رسول نے ایک ہزار سے اوپر لکھی ہے ان میں سے اب تک بہت سے لقمۂ طاعون ہوچکے ہیں اور بہت سے بیعت پر تبرّا کہہ کر از سر نو اسلام قبول کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ مجدد السنہ مشرقیہ کی کوشش سے بذریعہ ضمیمہ شحنہ ہند اب تک جاری ہے دیکھو ضمیمہ شحنہ ہند ص۷۵،۷۸،۱۲۱،۱۰۶؍ ۱۹۰۱ء اور ص۱۷۲؍۱۹۰۲ء اور رسالہ