احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
فتح قادیان مورخہ ۲۰؍جنوری۱۹۰۳ء ص۱۵؍ اور اس معاملے میں مولوی نور محمدصاحب ساکن لکھوکے کا اشتہار بھی دیکھنے کے قابل ہے جن کے ہاتھ پر خود مرزا کے پیروان ساکن قادیان نے توبہ کی۔ جوشخص گورنمنٹ تک کو مغالطہ دینے سے نہیں چونکتا وہ پبلک کو کیوں مغالطہ نہ دے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اخبار عام مورخہ ۲؍فروری ۱۹۰۳ء میں لکھتے ہیں کہ جہلم میں آپ کے دیکھنے کو تیس یا چونتیس ہزار کے قریب لوگ آئے ہوں گے اور پھر لکھتے ہیں کہ جب لاہور سے میراگزر ہوا تو ایسے صدہا لوگ ہرسٹیشن پر جمع پائے۔ اندازہ کیاگیا کہ جہلم کے سٹیشن پر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کے قریب لوگ میرے راہ گزر سٹیشنوں پر جمع ہوئے ہوں گے۔ مرزا قادیانی کا یہ سفید جھوٹ روسیاہی کے لئے کافی ہے کیونکہ جب جہلم کی آبادی ہی اتنی نہیں تو اس قدر وہ کہاں سے آئے پھر ہر سٹیشن پر صدہا آدمی آپ کو چاہئے کہ مرد میدان بنیں۔ ہم اور آپ ایک متفقہ درخواست ریلوے افسروں کی خدمت میں پیش کریں کہ وہ پوری پوری تعداد پلیٹ فارم کے ٹکٹوں کی بتادیں یعنی لاہور سے لے کر جہلم تک ہرسٹیشن پر جس ٹرین میں آپ نے سفر کیا کس قدر آدمی آئے اور درخواست پر جو خرچ ہو اس کا نصف آپ دیں۔ اگر آپ اس روز چالیس ہزار کے قریب آدمیوں کا جمع ہونا لاہور سے جہلم تک کے سٹیشنوں پر ثابت کردیں تو فی سٹیشن ایک روپیہ نذر کروں گا۔ ورنہ اپنے کاذب ہونے کا اقرار کریں۔ ہمارے ایک کرم فرما سوداگر پشمینہ جن کو پشاور میں ایک شخص سے روپیہ لینا تھا اور وہ اتفاقاً پشاور سے اسی ٹرین میں آرہے تھے۔ جس میں مرزا قادیانی جہلم سے گھر کو جارہے تھے۔ حلفاً بیان کرتے ہیں کہ مسافر لوگ آپ کے دیکھنے کو آتے اور لاحول پڑھ کر چلے جاتے تھے (ایسے موقع پر اگر مرزا قادیانی اپنی نمائش کا ٹکٹ لگوادیتے تو منارۃ المسیح کھٹ سے تیار ہوجاتا اور الحکم میں ایک سو آدمیوں سے چندہ لینے کا اعلان نہ دینا پڑتا۔ ایڈیٹر!) اور مرزا قادیانی بگلا بھگت بنے آنکھیں بند کئے بیٹھے تھے۔ لاہور سے جہلم تک چودہ سٹیشن ہیں اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو بحساب اوسط ہرسٹیشن پر ۲۸۵۷ آدمیوں کا اپنے دیکھنے کے لئے آنا ثابت کردیں تو ہم فی سٹیشن ایک روپیہ پھر دیں گے ورنہ جھوٹے کے منہ میں وہ… مرزا قادیانی متفقہ درخواست پیش کریں اس کا خرچ ہمارے ذمے۔ اگر آپ چار سٹیشن وزیر آباد گجرانوالہ۔ گجرات، لالہ موسیٰ پر بجائے ۲۸۵۷ کے صرف پچاس پچاس آدمی ہی فی سٹیشن