احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
سرہنگ مقرر کرنے چاہئیں۔ یہ تمام مقدس علماء اور مشائخ کے حق میں کھلا لائبل ہے جو ہر طرح گورنمنٹ کے مطیع اور وفادار ہیں۔ اس لئے ہر عالم اور شیخ وقت مرزا پر عدالتوں میں لائبل دائر کرسکتا ہے مگر وہ صبر کئے بیٹھے ہیں اور مرزا کے یہ زہر میں گھلے ہوئے تیر دل وجگر پر سہ رہے ہیں۔ سوم! برٹش گورنمنٹ کو باوصف ایسے جبروت اور طاقت اور ایسی عالمگیر حکومت کے جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ مرزا اپنی خام خیالی سے کمزور یقین کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے جہاد سے خوف کرتی ہے حالانکہ مسلمانوں کو مذہب اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم جس سلطنت کے امن میں ہو اس سے انحراف کرنا خدا اور رسول سے انحراف کرنا ہے اور اس کا نام جہاد نہیں بلکہ بغاوت اور بے وفائی ہے۔ پھر اسلام میں بھی ویسا ہی جہاد ہے جیسا سلاطین یورپ نے پچھلے دنوں چین میں اور خود برٹش گورنمنٹ نے جنوبی افریقہ میں کیا اور اب سومال اور ونزویلہ میں کررہی ہے جو بالکل قدرت وفطرت کے مطابق ہے مگر مرزا تمام جہادوں کو وحشیانہ ظلم قرار دیتا ہے گویا ہر ایک جہاد کرنے والی سلطنت ظالم ہے، جابر ہے، وحشی ہے۔ چہارم! ضرورت اور ٹھیک منصوصہ اسلامی شرائط کے وقت مذہب اسلام میں جہاد ویسا ہی فرض ہے جیسا دوسری سلطنتوں میں مگر مرزا اس رکن شرعی کو مذموم سمجھتا ہے۔ لہٰذا ہرگز مسلمان نہیں بلکہ تمام مذاہب کا راندہ ہے۔ پنجم! بفرض محال نہ صرف ۸کروڑ مسلمان بلکہ ان کے ساتھ ۲۲؍کروڑ ہنود اور پھر مجموعی تعداد ۳۰؍کروڑ آدمی بھی چاہیں تو گورنمنٹ کا کچھ نہیں بگاڑسکتے۔ مرزا کی مفروضہ ایک لاکھ فوج تو کیا پدی کیا پدی کا شوربا ہے۔ مرزا کے مریدوں کی تعداد تو کسی طرح چند ہزار سے زیادہ نہیں مگر ہمارے بعض مشائخ کے مریدوں کی تعداد فی الحقیقت لاکھوں تک ہے مگر آج تک گورنمنٹ پر کسی نے اپنی تعداد ظاہر نہیں کی اور کیوں کرتے یہ تو مرزا قادیانی ہی کی کم ظرفی ہے اور اوچھا پن ہے۔ ہم بارہا نہایت تہدید کے ساتھ لکھ چکے ہیں کہ ایسے مغویانہ اور مضر خیالات کی اشاعت سے تائب ہو جو نہ صرف عموماً اہل اسلام کے لئے بلکہ خود مرزا کے لئے مضر ہیں اور گورنمنٹ ناواقف نہیں وہ خوشامد کے خود غرضانہ پہلوئوں کو خوب سمجھتی ہے مگر مرزا قادیانی نہیں مانتے تو اس کا خمیازہ چکھیں۔ دیکھنا آپ تو عیسیٰ موعود اور نبی مبروز اور امام الزمان جیسے کچھ ہیں۔ دنیا جانتی ہے مگر شوکت اﷲ ضرور مجدد السنہ مشرقیہ ہے اور پبلک نے اس کو مجدد مان لیا ہے۔ پس اس کی پیشینگوئی کسی طرح اوپر اوپر جانے والی نہیں انشاء اﷲ تعالیٰ۔ ہم عصرچودھویں صدی لکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب سوائے اپنے ایک لاکھ