احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
مریدوں کے جو معلوم نہیں کہاں ہیں زمین پر ہیں یا آسمان پر۔ باقی چھ کروڑ مسلمانان ہند کو غدار اور مفسد قرار دیتے ہیں۔ اگر گورنمنٹ ہند کو اپنی ہستی اور تعلیمات سے ہی آگاہ کرنا مقصود تھا تو مسلمانوں پر یہ تہمت لگائے بغیر بھی کرسکتے تھے۔ آپ نے ایک میموریل گورنمنٹ ہند کو بھیجا ہے کہ دربار تاج پوشی کی یادگار میں جمعہ کو بھی تعطیل ہوجایا کرے۔ اول تو یہ درخواست کبھی منظور نہ کی جائے گی۔ کیونکہ حاکمان وقت اپنے ہی تہوار کی تعطیل قائم رکھیں گے۔ اور ہفتہ میں دو روز کی تعطیل اصول سیاست مدن کے خلاف ہے۔ لیکن اگر مرزا قادیانی کو خاموش نہ رہنے اور گورنمنٹ کے کانوں میں اپنے وجود سے اس کو آگاہ کرنے کے واسطے ایک مضمون کی تلاش تھی تو مسلمانوں پر جھوٹا اتہام لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ مضمون صرف مسلمانوں کی دل آزاری اور گورنمنٹ کی جھوٹی خوشامد کے واسطے لکھا گیا ہے جو سراسر خلاف واقع اور محض غلط ہے۔ مرزا قادیانی گورنمنٹ کو دھوکا دینے اور اس کی خوشامد کے لئے جو کچھ چاہیں کہیں مگر وہ ان لوگوں کو دھوکا نہیں دے سکتے جو ان کی تالیفات کو پڑھتے رہے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ایک تالیف کا بھی یہ مقصود نہیں۔ ہم مرزا قادیانی کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اپنی ان ساٹھ تالیفات کا نام لیں جو انہوں نے اس غرض سے لکھی ہیں اور جن کا ذکر میموریل میں کیا ہے۔ مرزا قادیانی گورنمنٹ کو بتاتے ہیں کہ چھ کروڑ مسلمانوں میں صرف ایک لاکھ مسلمان وفادار ہیں اور باقی مفسد اور غدار اور ان مفسدوں وغداروں کے واسطے گورنمنٹ سے ایک ایسی رعایت اور مہربانی کی درخواست کرتے ہیں جو بہت غیر معمولی ہے۔ گورنمنٹ کو جو جواب اس درخواست کا دینا چاہئے وہ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کثیر تعداد میں جہاد کے خیالات پھیلے ہوئے ہیں تو ان مفسدوں کو شمار کرکے پھانسی لگا دینا چاہئے اور چونکہ یہ درخواست ایک نہایت قلیل جماعت کی طرف سے ہے۔ اس کو نامنظور کرنا چاہئے۔ گورنمنٹ ایک لاکھ آدمی کے واسطے تیس کروڑ رعایا کا شعار نہیں بدل سکتی۔ مرزا قادیانی نے ایک عجیب مہمل پوزیشن اختیار کی ہے۔ تھیٹرس سٹیج پر ایک مسخرا آتا ہے جس کا نصف منہ سفید ہوتا ہے اور نصف سیاہ۔ کبھی وہ ایک طرف ناظرین کے سامنے کرتا ہے اور کبھی دوسری طرف۔ مرزا قادیانی اس امر کا فیصلہ نہیں کرتے کہ وہ اس مسلمان کہلانے والی جماعت کے اندر ہیں یا یہ فرقہ احمدیہ محمدیوں میں شامل ہے۔ یا ان سے علیحدہ ہے۔ ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ کون ہمارا دوست ہے اور کون ہمارا دشمن ہے تاکہ ہم اسی نسبت سے اس کے ساتھ سلوک کر سکیں۔ مرزاقادیانی مسلمانوں کے ایک نائب کی حیثیت میں گورنمنٹ کے سامنے ایک درخواست پیش کرتے ہیں۔