احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
نہیں اور نہ کسی کو یہ اصلاح سوجھی۔ مسلمانوں کی تعطیل جمعہ کے روز اور عیسائیوں کی تعطیل اتوار کے روز اور ہنود کی تعطیل بدھ کے روز اور پارسیوں کی تعطیل منگل کے روز ہو۔ علی ہذا دوسرے مذاہب بھی ہیں پس گوری کا جو بن چٹکیوں ہی میں چلا ہفتے کے تو سات ہی دن ہیں۔ اگر تمام اہل مذاہب کی خواہشوں پر گورنمنٹ عمل کرے تو تیس روز چھوڑ ۳۶۰ دنوں میں بھی تعطیل کا نمبر نہ آئے۔ اور اس کا نتیجہ جو کچھ ہو وہ لے پالک کو نہیں تو آسمانی باپ کو ضرور معلوم ہے کہ دنیا ایک ہو کا مقام ہوجائے۔ آسمانی باپ اور لے پالک ہی منارے کی چوٹی پر دندنایا کریں باقی چار طرف صفایا۔ خوشامدی ٹٹونے دم ہلا کر یہ لید کی ہے کہ: ’’میرے ساتھ ایک لاکھ آدمی ہیں اور یہ میموریل ان سب کی طرف سے ہے۔‘‘کہو جھوٹے کے منہ میں وہ۔ ہم بتا چکے ہیں کہ مرزا کے چیلوں کی کائنات بس وہی ہے جو ’’الحکم‘‘ میں شائع ہوچکی ہے۔ ان سب کو جمع کیا جائے تو دوتین ہزار تک بھی بمشکل نوبت پہنچے گی اور اب تو ’’الحکم‘‘ میں شائع ہونا بھی بعض مصالح سے بند ہوگیا ہے جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔ آخر ایک لاکھ آدمی کچھ ہوتے بھی ہیں یا صرف ایک لاکھ کا نام سن لیا ہے۔ چونکہ لے پالک کو ہمیشہ خوف رہتا ہے کہ ’’مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہوجائے جو قانون کے خلاف ہو اور برٹش گورنمنٹ تعزیر کی چکی میں پیس ڈالے۔ لہٰذا ہمیشہ گورنمنٹ کو اس حیلے سے خوش کرنا چاہتا ہے کہ میں اسلامی جہاد کے خلاف ہوں اور مسلمانوں کے جہاد کا خیال مٹانا چاہتا ہوں جو اولڈ فیشن علماء نے ان کے دلو ںمیں جما رکھا ہے۔‘‘ لیکن ایسی خوشآمد سے جو خرابیاں لازم آتی ہیں۔ ان سے نہ صرف لے پالک بلکہ ناعاقبت اندیش کھوسٹ باپ بھی ناواقف ہے اور یہی ناعاقبت اندیشی ہے تو وہ ضرور ایک نہ ایک دن الہام کی بدولت لے پالک کی گردن تڑوا کر رہے گا۔ اولاً! یہ کہنا کہ میرے ساتھ ایک لاکھ آدمیوں کی تعداد ہے۔ گورنمنٹ پر صاف دھمکی ہے کہ مجھے کوئی ایسا ویسا کمزور لچر اور پوچ نہ سمجھنا میں سوڈان اور یوگنڈا اور سومالی اور سنوسی مہدی سے کہیں زیادہ قوت رکھتا ہوں جب چاہوں گا ہندوستان میں بغاوت پھیلا دوں گا۔ دوم ! مرزا کے نزدیک ہندوستان کے مسلمانوں میں بغاوت کا مادہ ہے۔ خصوصاً علماء اسلام میں جو مسلمانوں کو گویا درپردہ گورنمنٹ کی بغاوت کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ پس گورنمنٹ کو ان سے نہ صرف ہوشیار رہنا ہے بلکہ عملی طور پر نگرانی کے لئے تمام علماء اور مشائخ کے سروں پر