احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
اس نرالے الہام کے تین ٹکڑے ہیں جو آپس میں بالکل بے ربط اور خبط ہیں۔ ۱… ’’یبدی لک الرحمن شیئا‘‘ (تذکرہ ص۴۴۸، طبع سوم) یہ ٹکڑا ظاہر کرتا ہے کہ خاص قادیانی کی ذات سے خطاب ہے مگر: ۲… دوسرا ٹکڑا یعنی ’’اتی امر اﷲ فلا تستعجلوہ‘‘ (تذکرہ ص۴۴۸،۴۴۹، طبع سوم) جو سورۂ نحل کی پہلی آیت کا سرقہ کیاگیا ہے۔ اس سے اگر بجز مرزا قادیانی کے اوروں کی طرف خطاب ہے تو دونوں فقروں میں انتشار ضمائر ہے جو فصاحت وبلاغت کے بالکل منافی ہے اور اگر اس سے مرزا قادیانی کا نفس مراد ہے تو بجائے صیغہ جمع کے مفرد کا صیغہ ہونا چاہئے۔ حالانکہ یہ جمع کا صیغہ ہے جس کو اول سے کچھ لگائو نہیں اور کلام کی بے ربطی پر ظاہر ہے۔ کیوں حضرات مرزائیو! کیا اسی پر آپ کو ناز ہے سچ ہے ؎ آدمیان گم شد ند ملک خدا خرگرفت ۳… تیسرا ٹکڑا الہام کا ’’تلقاہا النبیّون‘‘ (تذکرہ ص۴۴۹، طبع سوم) باعتبار الفاظ ومعانی صریح غلط ہے۔ کیونکہ ترجمہ میں آپ ظاہر کرتے ہیں: ’’یہ ایک خوشخبری ہے کہ نبیوں کو دی جاتی ہے۔ نبیوں کے لفظ کو ترجمہ میں مفعول ظاہر کیا ہے تو اب دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو مرزا قادیانی نے اس کو مفعول بہ سمجھا ہے یا مفعول مالم یسمّ فاعلہ، دونوں غلط اگر نبیون کا لفظ مفعول بہ ہے تو نبیین ہونا چاہئے اگر مفعول مالم یسمّ فاعلہ ہے تو صیغہ تلقا مجہول ہونا چاہئے حالانکہ آپ نے صیغہ معروف کا رکھا ہے اور ترجمہ میں معنی مجھول کے لئے ہیں۔ یعنی ’’یہ خوشخبری جو نبیوں کو دی جاتی ہے۔‘‘ اور بصورت معروف ہونے صیغہ تلقاء کے نبیون کا لفظ تلقا کا فاعل ہوگا اس صورت میں اس فقرہ کا ترجمہ مرزا کے ترجمہ کے مخالف ہوگا اور بے معنی بھی ہوجائے گا۔ کیونکہ اس کے معنے یوں ہوں گے کہ ان نبیوں نے اس کو یاد کیا۔ اس صورت میں مرزا قادیانی پر بارثبوت عاید ہوگا کہ نبیّین سابقین نے اس بشارت کو یاد کیا۔ اور یہ ثبوت قرآن مجید کی کسی آیت سے مطلوب ہوگا۔ ورنہ سب تانا بانا ٹوٹ پھوٹ کر مکڑی کا جالا ہو جائے گا۔ مرزائیو سمجھو سوچو، کچھ جرأت ہے تو جواب دو۔ اسی صفحہ کے اخیر میں فرماتے ہیں کہ وحی نے میرا کلام حکایتہ سنایا۔ یعنی ’’انی صادق صادق‘‘ اس میں بھی قبائح ہیں۔ حکایت کا تکلف اور ضمیر خطاب سے جو آسان تھا تحرز ایک بے جا