احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
چیز کے بنے تھے اور کتنے عرصے میں بنے تھے اور وہ پتھر جو ان میں صرف ہوئے وہ پہاڑوں ہی سے لائے گئے تھے یا خشت سازوں نے بنائے تھے۔ افسوس خود غرضی انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ یہ اہرام مصر کے ہر حصے میں اس قدر کثرت کے ساتھ تھے کہ ان کی صحیح تعداد بتانا تقریباً غیر ممکن ہے۔ ان اہراموں کو بنے ہوئے بارہ ہزار برس سے زیادہ عرصہ ہوا ہے جس پر تحریر کیاگیا کہ ’’نبینا ہذہ الاہرام فی ستین سنۃ فلیہد مہامن یرید ذلک فی ستماۃ سنۃ فان الہرم ایسر من النباء‘‘ یعنی ہم نے تو اس اہرام کو ساٹھ برس میں بنایا ہے۔ مگر جو اس کے ڈھانے کا ارادہ رکھتا ہے وہ پہلے اس کو چھ سو برس میں تو ڈھائے۔ حال آنکہ بنی ہوئی عمارت کو کھود ڈالنا اس کے بنانے سے سہل تر ہے۔ ’’اذا العشار عطلت‘‘ معارف مرزائی ریل کے جاری ہونے سے اونٹ بیکار ہوگئے۔ ’’بارک اﷲ‘‘ کیا عجیبہ معارف ہیں۔ یعنی قیامت کے علامات سے جب کہ مہدی آخرالزمان (مرزاقادیانی) پیدا ہوں گے اور ان کا ظہور ہوگا ایک علامت یہ ہوگی کہ ریل کے جاری ہونے سے اونٹ بیکار ہو جاویں گے۔ یہ بڑی بین دلیل ظہور مہدی کی ہے کہ اونٹ بیکار ہوگئے ہیں۔ کیونکہ باوجود ریل کے جاری ہونے کے اب اونٹ اس قدر کارآمد ہیں کہ دس پندرہ سال آج سے پہلے جس اونٹ کی قیمت ۶۰روپیہ تھی آج کل وہ ڈیڑھ سو روپیہ میں بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ صرف پنجاب میں نوکورس اونٹوں کے قائم ہوئے۔ یعنی ۹رسالے اونٹوں کے کھڑے کئے گئے ہیں۔ فی رسالہ یا کور میں ۱۰۹۰ اونٹ ہوتے ہیں۔ مقامات ذیل میں وہ کور موجود ہیں۔ دہلی، میانمیر، منٹگمری، جہلم، راولپنڈی، نوشہرہ۔ تین دیگر مقامات پنجاب میں تو جملہ ۹۸۱۰ اونٹ اس وقت برسرکار ہیں اورہر ایک رسالہ میں لوگوں کو قرضہ دیا جارہا ہے کہ اونٹ خریدو اور بھرتی کرو۔ یہ معارف کیا گوزشتر سے زیادہ وقعت رکھتے ہیں کیا ’’اذ العشار عطلت‘‘ کے معارف اس پر صادق آتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ شاید مرزاقادیانی کے معارف پبلک سمجھتی نہیں۔ شاید مرزاقادیانی نے یہ فرمایا ہو کہ باوجود ریل کے جاری ہونے کے اونٹ بیکار اور کمیاب ہو جاویں گے اور ڈھونڈے نہ ملیں گے۔ ’’اذا الصحف نشرت‘‘ ایک علامت قیامت کی یہ ہے کہ اخبارات اور رسالے مطبعوں سے نکل کر لوگوں کو ملتے ہیں اور ایسے وقت میں مہدی (مرزاقادیانی) کا ظہور ہوگا بہت معقول یہ بھی نئی بات ہے۔ مطابع اب مرزاقادیانی ہی کے زمانہ میں ایجاد ہوئے۔ پہلے تو صفحہ ہستی پر تھے ہی نہیں۔ حضرت سال ۱۸۵۷ء میں پہلا چھاپہ خانہ انڈیا میں بمقام گوا قائم ہوا جب کہ مرزا