احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
ہیچ جاویدی گداے بے نوا روبگرداند چو فرعون از خدا بایزیدؒ سے کسی نے پوچھا سنت وفرض کیا ہے۔ کہا سنت ترک دنیا بتمامہا اور فرض صحبت مع اﷲ۔ ادھر مرزا کو دیکھ لو کہ کس فرض وسنت میں مشغول ہے۔ فراہمی دنیا بتمامہا کے لئے دن رات چندہ طلبی تیاری زیورات وملک املاک۔ بایزیدؒ کو ایک شخص نے دروازہ گھر پر آواز دی۔ آپ نے پوچھا کس کو بلاتے ہو۔ اس نے کہا کہ بایزید کو۔ آپ نے جواب دیا کہ تیس سال ہوئے کہ میں بیچارہ یزید کو تلاش کرتا ہوں۔ لیکن اس کا نام ونشان نہیں پاتا۔ ادھر مرزا ایسا عاشق شہرت کہ دن رات اشتہار بازی ورسالہ بازی ولایت تک انگریزی میں ترجمہ کراکر پہنچاتا ہے۔ بایزیدؒ فرماتے ہیں کہ بعد ریاضات چہل سال ایک رات حجاب دور ہوا۔ میں نے زاری کی کہ مجھے راہ ملے۔ خطاب ہواکہ کوزہ شکستہ وپوستین کا تجھ کوبوجھ نہیں۔ اس پر میں نے کوزہ وپوستین پھینک دی۔ ندا سنی کہ بایزید ان مدعیان کو کہہ دے کہ بایزید نے چہل سال مجاہدہ وریاضت باکوزہ شکستہ اور پوستین پارہ پارہ کی جب تک ان کو نہیں پھینکا۔ اس کو راہ نہیں ملا۔ پس تم باچندیں علائق جن میں اپنے آپ کو جکڑا ہوا ہے اور طریقتہ کو دام ودانہ ہوائے نفس بنایا ہوا ہے۔ کلا وحاشا ہر گز راہ نہ پاؤ گے۔ ادھر مرزا بلا ریاضت وباین علائق زمینداری باغات جائیداد زیور اسباب ومال وغیرہ کے سب سے بڑھ کر اپنے منہ سے خدا رسیدہ۔ بایزیدؒ سے لوگ دعا چاہتے تو وہ مناجات کرتے۔ خدا وندا یہ خلقت تیری ہے تو ان کا خالق ہے۔ میں کون کہ تیرے اور تیرے خلق میں واسطہ ہوں۔ پھر اپنے آپ کو کہتے کہ وہ دانائے اسرار ہے۔ مجھ کو اس فضولی سے کیا کام؟ ادھر مرزا کودیکھئے کہ دعاؤں وکرامتوں والہاموں وکشفوں کی دوکان کھولی ہوئی ہے۔ لوگوں سے پیشگی پانچ پانچ سو روپیہ لے کر وعدے اقرار کرتے ہیں۔ جھوٹے ہوتے ہیں۔ لیکن باز نہیں آتے۔ بایزیدؒ نے ایک امام کے پیچھے نماز پڑھی۔ بعد نماز امام نے ان سے پوچھا کہ تم کوئی کسب نہیں کرتے اور نہ کسی سے سوال کرتے ہو تم کہاں سے کھاتے ہو؟ بایزیدؒ نے کہا کہ ذرا ٹھہرو۔ مجھے نماز قضا پڑھ لینے دو۔ کیونکہ جو شخص روزی دہندہ کو نجانے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ ادھر مرزاقادیانی کا رزاق پر ایسا اعتماد ہے کہ اوّل محرری کرتے رہے۔ قانونی وکالت کے امتحان میں فیل ہونے پر سلسلہ کتاب فروشی شروع کیا ہزاروں روپیہ طرح طرح کے وعدے واقرار کر کے لے کے کر ہضم کیا۔ اب امامت، مجددیت، مسیحیت اور آخر نبوۃ ورسالت کی گدی بنا کر دن رات اشتہارات دے کر مخلوق الٰہی کی جیب خالی کر کے اپنی جائیداد بنا رہے ہیں۔ بایزیدؒ کے حالات میں ہے کہ وہ تمام خلائق کے لئے رحمت طلب کرتے۔ حتیٰ کہ ابلیس کے لئے بھی رحمت کی درخواست کی۔ جس پر جواب ملا کہ وہ آگ سے بنا