احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
دیتے ہو تو جواب دیا جاتا ہے کہ ہم تو نصاریٰ کے یسوع مسیح کو گالیاں دیتے ہیں۔ نہ کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو۔ کوئی پوچھے کہ دو مسیح کونسے ہیں؟ قرآن میں تو اسی عیسیٰ مسیح کا ذکر ہے جس کو یہودنے صلیب پر چڑھا کر قتل کرنا چاہا۔ مگر خدا نے اس کو زندہ اٹھالیا اور مرزا قادیانی بھی اسی یسوع کے ہلاک کرنے پر قلم کا بغدا چلا رہے ہیں۔ جس کے وہ رقیب ہیں اور جس کی عظمت ان کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ پھر قرآن میں تو یہ حکم ہے کہ بت پرستوں کو بھی گالیاں نہ دو چہ جائیکہ انبیاء کو ’’لاتسبوا الذین یدعون من دون اﷲ‘‘ لیکن آسمانی باپ نے اپنے لے پالک پر الہام کردیا ہے کہ عیسیٰ مسیح کو گالیاں دے کیونکہ اس نے اپنے اکلوتے بڑے بیٹے کو چھوٹے لے پالک کی خاطر عاق کردیا ہے اور قاعدہ بھی ایسا ہی ہے کہ انسان کو چھوٹی اولاد بڑی اولاد سے زیادہ عزیز ہوتی ہے اور لازاف نیچر بھی اسی طرح جاری ہے۔ ورنہ اولاد کی پرورش نہ ہوسکے۔ اب ساٹھا پاٹھا لے پالک گہوارے میں ہے اور آسمانی باپ اس کی پرورش کرتا اور بڑے بیٹے کو دور دبک بناتا ہے۔ مرغی بھی تو چھوٹے ہی بچوں کو پروں میں لیتی ہے اور بڑے بچوں پر چونچ چلاتی ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ’’بل رفعہ اﷲ‘‘ میں رفع کے معنی عزت کی موت کے ہیں بھلا جب یہودیوں کا مدعا عیسٰی مسیح کے قتل اور صلب میں پورا ہوا اور وہ ہلاک کئے گئے تو یہ عزت کی موت ہوئی یا ذلت کی۔ اگر مرزا قادیانی افغانستان جاکر اپنی بروزیت کا اعلان دیں اور افغانی ان کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دیں تو یہ عزت کی موت ہوگی یا ذلت کی۔ پھر کیوں نہیں افغانستان جاتے ہندوستان میں تو ان کی زندگی ذلت کی ہے۔ اس ذلت سے کیوں نہیں نکلتے۔ برے حال جیا بھی تو خاک جیا ترے جینے کا اب تو مزہ ہی نہیں یہود تو یہ کہیں کہ ’’انا قتلنا المسیح بن مریم‘‘ اور اس پر اچھلیں کودیں اور خدائے تعالیٰ ’’وماقتلوہ وما صلبوہ‘‘ سے ان کی تکذیب کرے مگر مرزا قادیانی یہود کا ساتھ نہ چھوڑیں اور انہیں کے ساتھ مارے خوشی کے بغلیں بچائیں کہ اچھا ہوا وہ ایسا تھا اور ویسا تھا۔ کوڑہیوں وغیرہ کو اچھا اور مردوں کو زندہ کرنے کا دعویٰ کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتم بالبینت فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الاسحر مبین (مائدہ)‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کو فرمائے گا کہ میری نعمتیں یاد کر منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ تم بنی اسرائیل کے پاس معجزات لائے اور انہوں نے