احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
ہے۔ مامور من اﷲ اور نبی رسول کی قدر کسی زمانے میں تھی مگر اب نہیں۔ ساری خرابیاں بدبخت جدید فلسفے کی ہیں۔ کسی زمانہ میں پیشینگوئیاں اور الہامات مانے جاتے تھے مگر اب نہیں۔ ورنہ نبی نبی میں فرق ہی کیا ہے۔ آٹھواں! یہ نہ کہو۔ معجزات کو اب بھی لوگ مانتے ہیں مگر صرف پرانے گزشتہ اور مردہ انبیاء کے معجزات کو نیا نبی آنکھوں کے سامنے آسمان سے سیڑھی لگا کر بھی اترے تو کوئی نہیں مانتا۔ دیکھو ہمارے دارالامان کا منارۃ المسیح کیا مسیح موعود کے اترنے کی سیڑھی نہیں مگر اس کو مومنین ہی نے مانا۔ منکرین یہود سیرت کیوں ماننے لگے۔ عیسیٰ مسیح مر گیا۔ گل گیا۔ گلیل میں اس کی قبر موجود مگر مسلمان جو نجس عیسائیوں بے بھی گئے گزرے۔ اس کو ۱۹سوبرس سے آسمان پر زندہ سمجھتے ہیں۔ ذرا خیال تو کرو کہ مردہ مسیح تو اب تک معجزات دکھائے اور ہمارے حئی اور قائم مسیح موعود کے معجزات جو آنکھوں کے سامنے ہیں۔ وہ چھتر پر رکھ دئیے جائیں۔ ڈیڑھ سو پیشین گوئیاں جو دن دہاڑے پوری ہوئیں اور سینکڑوں آسمانی نشان جو یکے بعد دیگرے ظاہر ہوئے۔ ان کو کوئی نہ مانے۔ گزشتہ انبیاء مین کونسا سرخاب کا پرتھا جو حضرت اقدس میں نہیں۔ کیا وہ انسان نہ تھے۔ فرشتوں میں سے منتخب ہوکر آسمان سے اترے تھے۔ وہ بھی انسان تھے اور حضرت اقدس بھی انسان ہیں۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ پیغمبر عرب کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ اسلام کا برباد کرنے والا اور خدائے قدیر کی قدرت کا سلب کرنے والا اور اس کو ہر طرح عاجز بنانے والا ہے۔ قرآن میں کہیں ایک حرف بھی ایسا نہیں جس سے قیامت تک انبیاء کی آمد کا سلسلہ منقطع سمجھا جائے۔ لفظ خاتم النّبیین کے سمجھنے میں تمام علماء اور مفسرین بلکہ خود صحابہ نے غلطی کھائی۔ خاتم کے معنے مہر کے ہیں اور مہر ہر شخص کا نشان اور علامت ہوتی ہے۔ پس یہ مطلب ہوا کہ پیغمبر عرب انبیاء کا نشان ہے۔ یعنی دوسرے انبیاء کی طرح محمد بھی ایک نبی ہے۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ اب قیامت تک کوئی نبی نہ آئے گا۔ دیکھو دنیا میں کیسے کیسے اولوالعزم نبی گزرے جن کی تصدیق خود پیغمبر عرب نے بلکہ قرآن نے کی ان میں سے کوئی قاطع سلسلہ انبیاء نہ ہوا صرف پیغمبر عرب ہوا۔ بھلا اس خصوصیت وترجیح کی آخر کوئی وجہ بھی۔ اب رہی ’’حدیث لا نبی بعدی‘‘ یہ یاروں کی نری گھڑت ہے۔ پیغمبر عرب ایسا خلاف قیاس اور خلاف نیچر دعویٰ نہ کرسکتا تھا جو قرآن کے خلاف ہو۔ ہمارے مسیح موعود اور امام الزمان نے حکم دیا ہے کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو اسے پتھروں سے مارو۔ نواں! آپ نے یہ قصہ جھگڑا پرانا دکھڑا کیوں چھیڑ دیا۔ ایسی ہی باتوں نے تو مسلمانوں کو