احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
پھر بت پوجنے لگیں اور جن بری باتوں اور چیزوں کو ہم پہلے جائز سمجھتے تھے۔ ان کو جائز جانیں۔ پس جب کہ انہوں نے ہم کو نہایت عاجز کر دیا اور طرح طرح کے ظلم کئے اور نہایت تنگ اور دق کیا اور ہمارے دین سے ہمیں پھرانا چاہا اور ہمارے مزاحم ہوئے تو ہم اپنا وطن چھوڑ کر اور تجھ کو دیگر بادشاہوں کی نسبت اچھا جان کر تیرے ملک میں چلے آئے اور یہ امید کر کے کہ تیرے ہوتے کوئی شخص ہم پر ظلم نہ کر سکے گا۔ تیری پناہ اختیار کی۔‘‘ یہ ہے اسلام کا صحیح فوٹو جس کے دیکھنے سے اسلام کی سچی عظمت دلوں میں بھر جاتی ہے اور اس کی حقیقی صداقت اور حقیقت کا ایک گہرا اور پائیدار نقش دل پر جم جاتا ہے۔ اب مرزاقادیانی ہی سچ کہہ دیں کہ اپنے ستارہ قیصرہ وتحفہ قیصرہ میں جو بحضور علیا جناب قیصرہ ہند ارسال کئے تھے۔ کون سی عظمت وشان شوکت اسلام کی بیان فرمائی ہے۔ اگر کچھ لکھا ہے تو یہی لکھا ہے کہ اے قیصرہ ایک مہدی آیا ہے جس کے بزرگوں نے سرکار کی فلاں فلاں خدمات کی ہیں وہ خونی مہدی نہیں۔ وہ سچا خیرخواہ سرکار ہے اور اس مہدی کے آنے کی سخت ضرورت ہے۔ اے قیصرہ تم نے ایسے عجیب وغریب مہدی کی کوئی قدرنہ کی اور باوجود اس قدر وسیع اخلاق کے اپنے مخلص مہدی کو محروم رکھا۔ شاید وہ ایک رسالہ حضور میں نہیں پہنچا اور کہیں پس وپیش ہوگیا ہوگا۔ اس لئے اب ستارہ قیصرہ بھیجا جاتا ہے۔ امید ہے کہ جواب سے افتخار بخشا جاوے گا۔ (تحفہ قیصریہ ص۱۲،۱۳، خزائن ج۱۲ ص۲۶۴،۲۶۵، ستارہ قیصرہ ص۲، خزائن ج۱۵ ص۱۱۲) سبحان تیری قدرت۔ کیا خوب نبوت اس تحریر سے ٹپک رہی ہے اور بروزی رسالت کی شان ظاہر ہورہی ہے۔ آپ کو پیروی اور اتباع کی کیا ضرورت آپ تو حسب (اشتہار مورخہ ۵؍نومبر ۱۹۰۱ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۳۱تا۴۳۳ ملخص) خود محمد رسول اﷲ اور خاتم النّبیین اور ’’جری اﷲ فی حلل الانبیاء‘‘ ہیں اور اپنے مریدوں کی غلطی کا ازالہ کر رہے ہیں کہ وہ آپ کو پہلے صرف ایک مجدد سمجھتے تھے اور اب رسول بنا لیا۔ اب اختلاف درمیان قول وفعل مرزاقادیانی کے ناظرین پر ظاہر ہوگیا یا کوئی کسر باقی رہ گئی۔ مرزاقادیانی ہی خدا لگتی کہہ دیں کہ کیا آپ کے دل میں پیغمبر خداa کے کوئی وقعت ہے اور آپ واقعی ان کے قدم بقدم چلتے ہیں۔ کیا سرور کائناتa نے بھی کبھی کوئی اس قسم کی پولیٹکل چال چلی تھی۔ کیا یہ آنحضرتa کی پالیسی تھی جس کی آپ تقلید کر رہے ہیں۔ بندہ پرور حضور انور بنی ہاشمی روحی فداہ نے تو کافروں پر بھی وہ احسانات کئے کہ فلک گفت احسن ملک گفت زہ، اور کفار دل وجان سے قائل ہوگئے کہ بیشک یہ رحمۃ للعالمین ہیں۔ آنریبل سرسید کو طرح طرح سے برا بھلا کہا گیا۔ گالیاں دی گئیں۔ مغلظات کے