احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
گیا۔ پھر اس میں یہ شرارت اور فریب کہ میں محمد کا غیر نہیں تاکہ مہر نبوت ٹوٹ جائے بلکہ میں تو ہوبہو محمد ہوں۔ گویا خاتم النّبیین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیa کی روح پاک نے حلال خوروں کے لال گرو کے بھائی کے ناپاک جسد میں حلول کیا ہے؟ (معاذ اﷲ) آپ کے بھائی لال گرو کے خوارق کا نمونہ سب دیکھ چکے ہیں۔ پس آپ اس سے گھٹ کر کیوں رہنے لگے۔ دونوں ایک ہی جھاڑو کی تیلیاں ایک ہی سنڈاس کے کیڑے۔ ایک ہی کوڑی کے درخت ایک ہی کھیت کے کھاد ایک ہی جیسے کمائو پوت پس جو نسبت آپ کو اپنے بھائی سے ہے۔ وہی نسبت آپ کے چیلوں کو بھائی کے چیلوں سے ہونی چاہئے۔ تعلیم وتربیت کے موجودہ زمانے میں رفارمیشن کا دور دورہ ہے اور ہر قوم اور ہرفن کا ایک ایک رفارمر موجود ہے۔ لیکن ان میں سے کسی نے نبی بننے کا دعویٰ کیا ہے؟ مرزا قادیانی نے تو اپنے کو پرافٹ (غیب دان) بنالیا ہے۔ پس وہ نبی نہیں بلکہ چھلے چھلائے فرمائشی خدا ہیں اور یہ کچھ چھپی بات نہیں وہ کھلم کھلا کہتے ہیں۔ کہ دیکھو میری فلاں پیشینگوئی پوری ہوئی اور فلاں پوری ہوئی۔ کیا اس کے یہی معنی نہیں کہ میں غیب دان خدا ہوں حالانکہ انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے کسی نے نہ تو غیب دانی کا دعویٰ کیا نہ غیب دانی کو اپنی نبوت کی صداقت کا معیار ٹھہرایاا ور کیونکر ٹھہراتے خود ابنیاء کا اس پر ایمان ہے کہ غیب دان صرف خدا ہے جس کی صفت علاّم الغیوب ہے۔ مرزا قادیانی اپنے کو مسلمان اور قرآن پر اپنا ایمان بتاتے ہیں حالانکہ قرآن کا سراسر خلاف کررہے ہیں قرآن میں ہے ’’اﷲ یعلم مافی الارحام‘‘ یعنی خدا ہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں مذکر ہے یا مؤنث اور ’’وماتدری نفس بایّ ارض تموت‘‘ اور خدا ہی جانتا ہے کہ انسان کونسی زمین میں مرے گا مگر مرزا قادیانی نے علی رئوس الاشہاد متواتر غیب دانی (پیشینگوئی) کی کہ میری زوجہ کے آئندہ گابھ سے مجھ جیسا بلکہ مجھ سے بڑھ کر فرزند ارجمند پیدا ہوگا لیکن قدرت کی جانب سے گھونسا جو لگتا ہے تو نر کی جگہ کھٹ سے مادہ نکل پڑی۔ مرزا قادیانی نے غیب دانی کی کہ طاعون میرا ایڈیکانگ ہے مرزائیوں کو اس سے کچھ خوف نہ کرنا چاہئے اور خاص کر جو شخص میرے نزول وبعثت کی سرزمین میں آجائے گا وہ تو مجھ سے پہلے مر ہی نہیں سکتا۔ مگر آپ جانئے طاعون ایک ہی کائیاں ہے۔ نہ لے پالک کا منہ کیا، نہ آسمانی باپ کا، اور نہ صرف مختلف مقامات میں بلکہ خود دارالامان قادیان میں مرزائیوں کا کھلیان لگا دیا۔ بہت سے مرزائی قادیان کے بلوں میں دم سے چھاج باندھ باندھ کر گھسے مگر طاعونی چوہوں کی طرح مرے کے مرے رہ گئے اور گورداسپور کی میونسپلٹی کو ان چوہوں کے مارنے پر انعام بھی مشتہر