احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
موعود نہیں ہوسکتے۔ مرزا قادیانی کو تو صرف یہ کہنا چاہئے تھا کہ میں ضروری اور قطعی اور یقینی اور بے شک اور البتہ اور بے ریب اور حتمی اور عینی مسیح موعود ہوں۔ دلیل ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ میں مصادرۃ علی المطلوب کو نہیں جانتا اسے منطق والے جانیں۔ جن دلائل سے مرزا قادیانی آسمان پر عیسیٰ مسیح کے اٹھائے جانے کے منکر ہیں وہ خود قابل مضحکہ ہیں۔ رفع سے رفع روح یا سلب روح یا موت مراد لیتے ہیں۔ اگر جناب باری کی بھی یہی روداد ہوتی تو اماتہ اﷲ فرماتا۔ پھر رفع روح یا سلب روح مراد لینے سے عیسیٰ مسیح کی کوئی ترجیح اور فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ ایک مچھر اور مکھی کی روح بھی سلب ہوتی ہے اور اگر رفع درجات مراد ہے تو تمام مومنین، صادقین، صلحاء اور شہداء اس میں شامل ہیں پھر بھی عیسیٰ مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔ پھر بھی اعتراض یہودی اور آریا اور دہریے بھی کرتے ہیں۔ یعنی معجزات انبیاء کے قائل نہیں۔ اس صورت میں مرزا قادیانی مسلمان نہیں ہیں اور نہ قابل خطاب۔ حالانکہ وہ مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔ رفع روحانی سے رفع مراتب مراد لینا تحصیل حاصل ہے کیونکہ عیسیٰ مسیح کلمۃ اﷲ اور روح اﷲ میں ان کو یہ مرتبہ پہلے ہی حاصل ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ وہ دنیا میں اپنی موت مرے تو پھر آیت میں لفظ شبہ فضول ٹھہرتا ہے کیونکہ اپنی موت مرنے میں نہ کوئی شبہ ہے نہ کوئی جھگڑا۔ پھر آیت کا سیاق بگڑتا ہے کہ جھگڑا تو صلب اور قتل میں ہوا اور مسیح علیہ السلام اس سے سالہا سال بعد اپنی موت مرے۔ مشتبہ امر تو اب واقع ہوا اور جناب باری نے اس کا ازالہ چند سال یا چند ماہ پر ملتوی کردیا۔ حالانکہ ولکن حرف عطف بمعنے استثنیٰ ۔ اس واقعہ کے فوری اور متصل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ملحدانہ تاویل کرنی بھی نہیں آتی۔ جہالت کی گرم بازاری ہے۔ ہمارے علماء وفضلاء تو قرآن وحدیث کے بحربے پایاں کی مچھلیاں ہیں۔ بھلا تاویلوں کے گندے تالابوں کی مچھلیاں ان کا کیا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ اس قسم کی ملحدانہ تاویلات ان کے سامنے نقش برآب ہوجاتی ہیں۔ اسی قسم کی لغو اور بے ہودہ تاویلیں مخالفان مذہب کو انگشت نمائی کا موقع دیتی ہیں۔ وہ مرزائی مزخرفات کو اپنے دعوئوں کی سند میں پیش کرتے ہیں کہ یہ اعتراض ہم ہی نہیں کرتے بلکہ مرزا جو مرزائیوں کا امام الزمان۔ وہ خود تمہارے قدیمی مفسرین کو رد کرتا ہے۔ پس مرزا قادیانی سے بڑھ کر دین اسلام کا کون دشمن ہوگا؟