احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
قرآن مجید کو تو اپنے اعجاز فصاحت کا دعویٰ ہے اور آپ کہتے ہیں کہ مصنف اعجاز احمدی کو زبان عرب اورعلم وادب کا دعویٰ نہیں تو پھر یہ کہنا کہ اہل عرب اس کے مقابل قصیدہ لکھیں۔ آپ اپنے منہ پر تھپڑ مارنا ہے۔ سبحان اﷲ مہدی نژاد مغل اور اہل عرب سے تحدّی۔ آنحضرتa کا تمام تکلم زبان عرب میں تھا اور ’’ماینطق عن الہویٰ‘‘ کے موافق وہ بھی معجزہ تھا۔ احادیث کی فصاحت وبلاغت کے برابر کوئی شخص ساری خدائی میں ایک فقرہ تو لکھ دکھائے۔ یہی وجہ ہے کہ موضوع اور مدلس حدیثیں خود بتا دیتی ہیں کہ یہ آنحضرتa کا کلام نہیں اور قادیانی صاحب کی مادری زبان اردو ہے جس کی کوئی کل درست نہیں بلکہ قہقہہ اڑانے کے قابل ہے۔ وہ اردو زبان کے محاورات اور موارد سے محض نابلد ہیں۔ پھر زبان عرب میں اعجاز کی اکڑ فوں۔ واہ گرو،واہ گرو۔ پھر حافظ شیرازؒ کا سنا سنایا یہ شعر نقل کرنا ؎ من از آن حسن روز افزوں کہ یوسف داشت دانستم کہ عشق از پردۂ عصمت برون آرد زلیخا ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی معاذ اﷲ یوسف ؑ اور امروہی صاحب ان کی زوجہ زلیخا ہیں۔ شاباش۔ بڑھے رہو۔ کونپل عالم بالا میں ہو اور جڑ پاتال میں۔ پھر شوکت کی تعریف میں جو آپ نے شاکۃ الشوکۃ تشوکۃ شوکاً اصابتہ ودخلت فی جسمہ کو گردان کیا ہے تو غالباً میزان الصرف بھی کسی استاد سے نہیں پڑھی کیونکہ ماضی اور مضارع میں تمیز نہیں پھر ہر شخص جانتا ہے کہ کانٹا دوسروں کے لگتا ہے نہ کہ آپ کو، تلوار اوروں کو کاٹتی ہے نہ کہ اپنے آپ کو۔پس شوکت کے سطوت ورعب کاجو کانٹا لگا ہے اور اس نے فرقہ خبیثہ مولمہ گرو گھنٹال اور اس کے چیلوں کے دل وجگر اور زبان میں پیدا کیا ہے تو وہ سب کو داخل دارالبوار کرے گا۔ انشاء اﷲ! پھر بے تمیزی دیکھئے کہ الشوکت الیہودیہ تو بتاء تانیث لکھا اور فی جسمہ بضمیر مذکر۔ پھر طوفان تو دیکھو لکھتا ہے کہ ’’شوکت نے وصف وثناء محمد سے انکار کیا ہے۔‘‘ حالانکہ ہم نے یہ اعتراض کیا تھا کہ لفظ ثناء عام ہے آنحضرتa کیلئے خاص نہیں۔ آپa کی تعریف کو نعت کہتے ہیں جیسے خدا کی تعریف کو حمد۔ آنحضرتa اور تمام انبیاء کی تعریف کا منکر تو ملحد اور کافر ہے۔ اب تمہیں ایمان سے کہو کہ عیسیٰ مسیح ؑ کو کس نے گالیاں دی ہیں؟ ہمارا کلام خطاب ارض میں تھا امروہی اس کے جواب میں ’’وان من قریۃ اور غلبت الروم فی ادنیٰ الارض‘‘ پیش کرتا ہے۔بھلا یہاں خطاب کہاں ہے؟ اور اگر لفظ اہل مخدوف مانیں تو کیا وہ غائب نہ ہوں گے بہرحال غائبین سے خطاب ہوگا۔ کلام اس میں تھا