کشکول معرفت |
س کتاب ک |
|
تُرِیْدُ أَعْیَانَہَا کَقَوْلِہِمْ: رَغِمَ أَنْفُہٗ وَسُقِطَ فِیْ یَدِہٖ؎ قدم رکھنے سے مراد جہنم کو ذلیل کرنا ہے۔ جب اس نے مبالغہ کیا طغیانی میں اور طلبِ مزید میں اللہ تعالیٰ نے اس کو تحت القدم ذلیل کردیا یعنی دبادیا، اور حقیقی قدم مراد نہیں ہے، جیسا کہ اہلِ عرب محاورات میں اعضا کا نام بولتے ہیں اور مراد اعضا نہیں ہوتے۔ جیسے اس کی ناک خاک آلود ہو یا وہ اس کے ہاتھ میں گرگیا۔ اور قط قطکے معنیٰ حسبی حسبی ہے یعنی بس بس۔ فَتَقُوْلُ قَطْ قَطْ:وَالْمَعْنٰی حَسْبِیْ حَسْبِیْ قَدِ اکْتَفَیْتُ؎ یعنی بس بس میرا پیٹ بھر گیا۔ذکر سے کیا مراد ہے؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: فَاذْکُرُوْنِیْۤ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ؎ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فَاذْکُرُوْنِیْ کی تفسیر بِالْاِطَاعَۃِ سے فرمائی اور اَذْکُرْکُمْ کی تفسیر بِالْعِنَایَۃِ سے فرمائی یعنی تم ہم کو یاد کرو اطاعت سے ہم تمہیں یاد رکھیں گے عنایت سے۔؎ اس تفسیر سے یہ اشکال حل ہوجاتا ہے کہ کیا نعوذ باللہ حق تعالیٰ مخلوق کو بھول جاتے ہیں جبکہ ان کے لیے نسیان محال ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مجرمین کو بھی یاد رکھتے ہیں مگر عتاب کے ساتھ اور مقبولین کو یاد رکھتے ہیں عنایت کے ساتھ۔ حضرت علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فَاذْکُرُوْنِیْ بِالطَّاعَۃِ قَلْبًا وَّقَالَبًا فَیَعُمُّ الذِّکْرُ بِاللِّسَانِ وَالْقَلْبِ وَالْجَوَارِحِ (فالاوّل) اَلذِّکْرُ بِاللِّسَانِ الْحَمْدُ وَالتَّسْبِیْحُ وَالتَّحْمِیْدُ وَقِرَائَۃُ کِتَابِ ------------------------------