کشکول معرفت |
س کتاب ک |
|
کے ساتھ خشیت ہو اور علماء درحقیقت وہ ہیں جو اپنے علم پر عامل ہوں اور یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔خشیت اورخوف کا فرق خشیت اس خوف کا نام ہے جس کے اندر تعظیم شامل ہو۔ اَلْخَشْیَۃُ خَوْفٌ مَعَ تَعْظِیْمٍ؎ (سانپ سے بھی ڈرتے ہیں، مگر اس کی عظمت دل میں نہیں ہوتی۔) اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم سب کو خشیتِ مطلوبہ عطا فرماویں، اور خشیتِ مطلوبہ یہ ہے: اَللّٰہُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیَتِکَ مَا تَحُوْلُ بِہٖ بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَعَاصِیْکَ؎ اے اللہ! میں آپ سے آپ کی خشیت کا اس قدر حصہ مانگتا ہوں جو میرے اور آپ کے معاصی کے درمیان حائل اور مانع بن جائے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اتنی خشیت مطلوب نہیں کہ ہم بیمار ہوکر اعمال سے معطل ہوجائیں۔ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے خشیت کی مقدار کی وضاحت فرمادی۔علم اور ذکر کا تعلق حق تعالیٰ نے اہلِ علم کو اہلِ ذکر سے تعبیر فرمایا ہے: فَسْئَلُوْۤا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ؎ اگر تم کو علم نہیں ہے تو اہلِ ذکر سے سوال کرو یعنی اہلِ علم سے۔ ہمارے مرشد حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے ------------------------------