کشکول معرفت |
س کتاب ک |
|
رِسالت اور بادشاہت میں فرق حاتم طائی جن کو سخاوت میں تاریخی شہرت حاصل ہے، ان کے صاحبزادے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے مذہباً عیسائی تھے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں آتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عقیدت مندیوں اور جہاد کا سازو سامان دیکھ کر ان کو یہ فیصلہ کرنا کچھ دشوار معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہ ہیں یا پیغمبر ہیں۔ دفعتاً مدینہ کی ایک غریب لونڈی آتی ہے اور کہتی ہے کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھ کو کچھ عرض کرنا ہے۔ فرمایا: دیکھو مدینہ کی جس گلی میں کہو میں تمہاری بات سن سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اس کی حاجت پوری کردیتے ہیں۔ اس ظاہری جاہ و جلال کے پردہ میں یہ عاجزی، خاکساری اور یہ تواضع دیکھ کر حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے پردہ ہٹ جاتا ہے اور وہ دل میں فیصلہ کرلیتے ہیں کہ یہ یقیناً پیغمبرانہ شان ہے۔ فوراً گلے سے صلیب اُتار دیتے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلقۂ غلامی اپنی گردن میں ڈال لیتے ہیں اور صحابیت کے شرف سے مشرف ہوجاتے ہیں۔؎ یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّہِمٖفتح مکہ اور کمالِ عبدیت دس ہزار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی جاں نثار فوج کے ساتھ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر شہر مکہ میں فاتحانہ داخل ہوتے ہیں تو عظمتِ حق اور رحمتِ حق اور نصرتِ حق کا استحضار اور اپنی بندگی کا احساس آپ پر اس قدر غالب ہوتا ہے کہ آپ غلبۂ شکر اور تواضع سے آگے کو جھک جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کی ریش ------------------------------