اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ |
|
ذہن منتقل ہوتا ہے کہ محاورات ہمارے سماجی رویوں پر طعن بھی ہیں طنز بھی تنقید و تبصرہ بھی اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو محاورات میں ہمیں اپنے معاشرہ اُس کی تہذیب و تعریف اور مختلف دور کے رویوں کا ایک جیتا جاگتا عکس نظر آئے گا۔ ادب و لٹریچر ہماری ایک طرح سے سماجی تاریخ ہے اور الفاظ ان کے معنی خیز ربط ہوتا ہے جسے صرف لغت میں نہیں دیکھا جا سکتا وہ سماجی رشتوں سے اُن کے عمل وردِ عمل سے اُن کی رسائی اور نارسائی سے سمجھ میں آتے ہیں اور محاورہ بڑی حد تک اُن معنوں کو Preserve کرتا ہے اس اعتبار سے محاورہ صرف زبان کا حصہ نہیں ہے ہماری سماجیات کا حصہ ہے۔ہُوس لگنا ہماری ایک عام سماجی کمزوری یہ ہے کہ بات بات توہم پرستی کے انداز سے سوچتے ہیں اُن میں نظر لگنا بھی ہے کہ اُس کی ٹوک لگ گئی نظر اپنے ہی کو نہیں لگتی چیزوں کو بھی لگتی ہے مچھلی کو دودھ کو اور گوشت کو عام طور سے نظر سے بچایا جاتا ہے یہ اس لئے تو خیر ضروری ہے کہ اُس کو ہوا کی یا پھر مکھی مچھر کی گندگی سے بچایا جائے۔ لیکن آدمی کی نظر سے بھی بچایا جائے اِس میں ایک طرح سے توہم پرستی کا عُنصر شامل ہے۔ معاشرہ کے اِس رو یہ کا اندازہ اِس سے بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی بچہ دودھ پی کر یا گھی کھا کر گھر سے نکلتا تھا تو اسے"راکھ چٹا دی" جاتی تھی۔ اسی طرح جب کسی بچی یا بچہ کا مُنہ دھُلایا جاتا تھا تو اسے سیاہی کا ٹکا بھی لگا دیا جاتا تھا تاکہ وہ نظرِ بَد سے بچ جائے لڑکیوں کو کھلے بالوں اور ننگے سر کوٹھے پر اِدھر اُدھر نہ جانے دیا جاتا تھا کہ اِسے نظر ہو جائے گی عام طور پر جن یا بھُوت یا بھُوتیناں جو ویران گلیوں ، کوٹھیوں یا گھروں میں رہتے تھے وہ چِمٹ جاتے تھے جو اِن لڑکوں کو بھی اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اُوپری اثر ہے۔ جِسے دلّی میں اوپری اثر کہا جاتا ہے۔ تعویذ گنڈے جھاڑ پونچھ جیسے توہم پرستانہ علاج کے طریقہ اسی وجہ سے زیادہ رائج رہے ہیں ۔ اِس معنی میں یہ محاورہ ہمارے ایک خاص طرح کے سماجی طریقہ فکر اور عوام کے ذہنی رویوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔