کشکول معرفت |
س کتاب ک |
|
باوجود اپنے کرم سے کچھ دے دیا کرتا ہے، لیکن عشاق کو یہ غم کھاجاتا ہے کہ نہ جانے ہمارا مالک خوش بھی ہے یا نہیں۔ بس اپنی رضا سے مطلع فرماکر جنت کو سو جنت بنادیا۔ فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ؎ داخل ہوجا میرے خاص بندوں میں فِیْ زُمْرَۃِ عِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ الْمُخْلَصِیْنَ لِیْ اس آیت میں اشارہ ہے روحانی سرور اور سعادتِ روحانی کی طرف کیوں کہ نیک ساتھی سے روح کو کمال اُنس اور فرحت عطا ہوتی ہے اور جسمانی فرحت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جنت میں داخل ہوجا اور نعمتوں سے استفادہ کر۔ (روح المعانی) میرے مرشد شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ اہل اللہ کی صحبت اور معیت جنت سے بھی بڑی نعمت ہے کیوں کہ صالحین کے ساتھ الحاق کو پہلے بیان فرمایا اور جنت کو بعد میں، اور عقلاً بھی یہ بات واضح ہے کہ مکین افضل ہوتا ہے مکان سے۔ اس موقع پر احقر کو اپنا ایک شعر فارسی کا یاد آیا ؎ میسر چوں مرا صحبت بجان عاشقاں آید ہمیں بینم کہ جنت بر زمیں از آسماں آید جب کسی عاشقِ حق اللہ والے کی صحبت مل جاتی ہے تو ایسا لطف محسوس ہوتا ہے کہ گویا جنت آسمان سے زمین پر اُتر آئی ہے۔ اللہ والوں کی شان میں احقر کے دو شعر ؎ مری زندگی کا حاصل مری زیست کا سہارا ترے عاشقوں میں جینا ترے عاشقوں میں مرنا مجھے کچھ خبر نہیں تھی ترا درد کیا ہے یاربّ ترے عاشقوں سے سیکھا ترے سنگِ در پہ مرنا میرے مرشد حضرت شاہ عبدالغنی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ امام شافعی فرمایا کرتے تھے ------------------------------