کشکول معرفت |
س کتاب ک |
|
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات سے مسلمانوں کو اسلام کے بعد جس قدر مسرور پایا اتنا کسی اور چیز سے نہیں۔؎ تشریح: ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ،جلد۹ ،صفحہ۲۵۰ پر تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اگرچہ عباداتِ قلبیہ، بدنیہ، مالیہ کا ذکر نہیں لیکن محبت کے لیے اطاعت لازم ہے اور اصل ہے پس اصل کا ذکر کرکے فرع سے اعراض کیا گیا۔ یہ تَسْمِیَۃُ اللَّازِمِ بِاسْمِ الْمَلْزُوْمِ کے قبیل سے مجاز مرسل ہے۔ جو محبت اطاعت کے ساتھ نہ ہو وہ محبتِ کاملہ نہیں ہے۔ حضرت رابعہ کا ارشاد ہے ؎ تَعْصِی الْاِلٰہَ وَ أَنْتَ تُظْہِرُ حُبَّہٗ ہٰذَا لَعَمْرِیْ فِی الْقِیَاسِ بَدِیْعٗ لَوْ کَانَ حُبُّکَ صَادِقًا لَأَطَعْتَہٗ إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٗ؎ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہو اور دعویٰ محبت کا کرتے ہو!یہ بات نہایت ہی عجیب ہے۔ اگر تیری محبت سچی ہوتی تو اطاعت کرتا کیوں کہ ہر محب اپنے محبوب کی اطاعت کرتا ہے۔ حدیث: ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ مجھے میری جان سے اور اہل وعیال سے زیادہ ہی محبوب ہیں۔ میں گھر میں جب آپ کو یاد کرتا ہوں تو بے چین ہوجاتا ہوں اور حاضر ہوکر دیدار کرلیتا ہوں اور جب اپنی موت کو یاد کرتا ہوں اور آپ کی وفات کو تو یہ خوف ہوتا ہے کہ آپ تو جنت میں انبیاء علیہم السلام کے درجہ میں ہوں گے اور اگر مجھے جنت مل گئی تو ادنیٰ درجہ میں ملے گی۔ آپ کا دیدار کس ------------------------------