معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
سر کے رکھ دینے کا نیچے تیغ کے لطف اس کا پوچھ اسماعیلؑ سے الغرض اس چرواہے کا دل عشقِ حق سے مجروح تھا، زبانِ محبت سے جناب باری تعالیٰ میں عرض کررہا تھا کہ اے ربِّ کریم اور میرے معبود! کہاں ہے؟ اے خدا وند کریم! اپنے ملنے کا پتا اور نشان بتا، تاکہ میں تیری نوکری کروں اور تیری گدڑی سیا کروں اور تیرے بالوں میں کنگھی کیا کروں اور اگر کبھی تو بیمار ہوجاوے تو میں تیری غم خواری اس طرح کروں جیسے اپنا کوئی عزیز کرتا ہے، اگر میں آپ کا گھر دیکھ پاؤں تو صبح و شام اپنی بکریوں کا دودھ اور گھی پہنچایا کروں، اور آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دوں اور آپ کے پاؤں دباؤں، اور سونے کے وقت آپ کی خواب گاہ کی جھاڑو سے صفائی کردیا کروں، اے میرے اللہ میاں! آپ کے اوپر میری یہ تمام بکریاں قربان ہیں ؎ اے فدائے ایں ہمہ بزہائے من اے بیادت ہی وہی وہائے من حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے جب اس کی یہ مناجات اور سرگوشی حق تعالیٰ کے حضور میں سُنی تو فرمایا:او بے ادب! تو کافر ہوگیا، دودھ تو وہ پیتا ہے جس کو نشو ونما کی حاجت ہو، گدڑی وہ پہنتا ہے جو محتاج ِجسم ہوتا ہے۔ دوستیٔ بے خرد چوں دشمنی است حق تعالیٰ زیں چنیں خدمت غنی است بے عقل کی دوستی مثل دشمنی کے ہے، حق تعالیٰ ایسی نادانی کی خدمت سے غنی ہے۔ اس چرواہے نے عرض کیا کہ ؎ گفت اے موسیٰ دہانم دوختی و ز پشیمانی تو جانم سوختی اے موسیٰ! آپ نے میرا منہ سی دیا اور شرمندگی سے میری جان کو سوختہ کردیا۔