معرفت الہیہ |
س کتاب ک |
|
عشق کا اس کو یقین ہوجائے اور میں نامرد ہوگیا۔ مشیت ایز دی کہ وہ اچھی ہوگئی، اب میں نامرد ہوں اور اس نے میرے نوکروں سے بُرا تعلق قائم کر رکھا ہے۔ مجھے اس امر کی اطلاع ہر وقت خودکشی کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ ایک ایک لمحہ میری زندگی کا مشکل سے کٹتا ہے۔ اسی کو حضرت عارف رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ راہِ لذت از دروں داں و ز بروں ابلہی دان جُستنِ قصر و حصوں آں یکے در کنجِ مسجد مست و شاد واں یکے در باغ ترش و بے مراد مولانا فرماتے ہیں کہ لذّت کا راستہ داخل سے جان، نہ کہ خارج سے ۔اطمینان اور لذت کا مدار اسبابِ خارجیہ پر نہیں ہے یعنی لذت کا مدار اسبا بِ خارجیہ پر نہیں ہے،بلکہ اس کا مدار قلب پر ہے ۔ اس میں چین ہوتاہے تو اسبابِ ظاہرہ اگر چہ خلافِ طبع ہی کیوں نہ ہو ں اطمینان میسر رہتا ہے،اور اطمینانِ قلب بدون ذکر اللہ کے میسر نہیں ہوتا ،کیوں کہ دل کے خالق نے اس کی غذا صرف اپنی یاد رکھی ہے ۔ ارشاد فرماتے ہیں: اَلَا بِذِکۡرِ اللہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾؎ خوب غورسے سن لو کہ دلوں کو اطمینا ن صرف میری ہی یاد سے میسر ہوتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص گوشۂ مسجد میں مست اور شاد ہے اور بظاہر مسجد میں کوئی سامانِ عیش موجود نہیں اور ایک شخص باغ میں ترش رو اور نامراد و غمگین بیٹھا ہوا ہے ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلے شخص کے قلب میں کوئی خوشی کا خیال ہے اور دوسرےشخص کے قلب میں کسی غم کا خیال ہے۔ بڑے بڑے سلاطین کو افکارِ سلطنت سے نیند نہیں آتی، اس ------------------------------