معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
ہیں۔ اس کے حق میں پھول ہیں، آپ کے حق میں خار ہیں۔ ہم بندوں کی تمام پاکی اور ناپاکی گراں جانی و چالاکی سے پاک ہیں۔ ہم ظاہری قیل وقال کو نہیں دیکھتے ہیں، ہم تو دل کا حال اور اخلاص دیکھتے ہیں۔ قلبِ خاشع کا خشوع دیکھتے ہیں، اگرچہ اس کے الفاظ نادانی اور غفلت سے ناخاضع ہوں۔ اے موسیٰ!دانا کے لیے آداب دوسرے ہیں اور جو میرے عشق میں سوختہ ہیں ان کے لیے آداب دوسرے ہیں، اس سوختہ جان اور سرمست عشقِ حق کے اگرچہ الفاظ بظاہر بے ادبی کے ہیں لیکن منشا اس کا جوششِ عشق ہے، ترکِ ادب نہیں ہے، اس کو خاطی مت کہو، شہید کا بدن اگرچہ خون سے لتھڑا ہو لیکن اس کو مت دھوؤ کیوں کہ شہیدوں کا خون پاکی میں پانی سے بڑھا ہوا ہے، پس اس سرمست اور سوختہ جان کی یہ خطا صد صواب سے بہتر ہے۔سرمستوں سے راہ بری مت ڈھونڈو، یعنی اُن کو مقتدا نہ بناؤ کہ مجاذیب ارشاد کے کام سے معذور ہیں، ان جامہ چاکوں پر رفو کا حکم نہ کرو، کیوں کہ غلبۂ یادِحق سے ان کو التفات الی الخلق نہیں رہا، اور نہ ان کو اپنا ہوش ہے۔‘‘ اس واقعے میں ہمارے حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ یہاں جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو تنبیہ فرمائی گئی ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ شریعت کا قانون اس پر کیوں نافذ کیا؟یہاں صرف نرمی کی تعلیم دی گئی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اتنا نہ لتاڑنا چاہیے کہ مخاطب مایوس ہوجاوے۔انبیاءعلیہم السلام غالب علی الاحوال رہتے ہیں لیکن انبیاء علیہم السّلام کی شان دوسری ہوتی ہے، ان کو اس درجہ قوی تعلق مع اللہ نصیب ہوتا ہے کہ وہ عین توجہ الی الخلق کی حالت میں بھی متوجہ الی الحق ہوتے ہیں، التفات الی الخلق ان کاملین اور غالبین علی الاحوال کے لیےیادِ حق سے حجاب نہیں ہوتا۔اسی طرح علمائے ربّانیّین کہ ارشاد کا کام کرتے ہیں وہ بھی چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں تبلیغ کا کام انجام دیتے ہیں اس لیے اکثر حالتوں میں یہ حضرات بھی فیضِ نبوّت سے غالب علی الاحوال ہوتے ہیں، اور حکمت اس میں یہ ہے کہ مغلوب