معرفت الہیہ |
س کتاب ک |
|
یہ کس کا حوصلہ ہے کہ باغباں سے دریافت کرے کہ بلبل نے کیا کہا، پھول نے کیا سنا اور صبا نے کیا کیا۔بندوں کا کام بندگی ہے، چون و چرا نہیں دنیا میں ہم چون و چرا کے لیے پیدا نہیں فرمائے گئے، ہم بندے ہیں اور بندگی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔یہ تمام اشکالات و اعتراضات اسی وقت تک ہیں جب تک محبت نہیں پیدا ہوتی، ورنہ محبت تو ذکرِ محبوب سے فرصت ہی نہیں دیتی۔ عاشق کی شان تو یہ ہوتی ہے ؎ ما ہر چہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم اِلّا حدیثِ یار کہ تکرار می کنیم جو کچھ ہم نے پڑھا تھا سب فراموش کر بیٹھے، مگر اب محبوب کا ذکر ہے اور اسی کا تکرار کرتا ہوں۔ حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ اب بھی مجذوب جو محروم پذیرائی ہے کیا جنوں میں ابھی آمیزشِ دانائی ہے حضرتِ والا رحمۃ اللہ علیہ عجیب شانِ وجد سے فرمایا کرتے تھے ؎ ماقصّۂ سکندر و دارانخواندہ ایم از ما بجُز حکایتِ مہر و وفا مپرس ہم نے سکندر اور دارا کا قصہ نہیں پڑھا ہے، ہم سے بجز مہر و وفا کی حکایت کے کچھ نہ پوچھو۔مجنوں کی حکایت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے مجنوں کی ایک حکایت لکھی ہے۔ ایک شخص نے دریا کے کنارے مجنوں کو دیکھا کہ ریت پر اپنی انگلی سے کچھ لکھ رہا ہے، اس نے دریافت کیا کہ اے مجنوں! کیا لکھ رہے ہو؟ ؎