معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
روضتہ العلوم رکھتا ہوں۔ اس مدرسے کا جس جگہ کنواں ہے خواب میں اسی جگہ پہلے حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ حضرت کھڑے ہیں، بس حضرت والا نے حکم فرمایا کہ اسی جگہ کنواں کھودا جائے۔ اس کنویں کا پانی عجیب شیریں اور ٹھنڈا ہے۔قیامِ مدرسہ بیت العلوم ۱۳۴۹ھ میں حضرت والا نے قصبہ سرائے میر میں متصل عیدگاہ ایک مدرسہ بیت العلوم بھی قائم فرمایاجس میں پورا درسِ نظامی پڑھا یا جاتا ہے،اس مدرسے کی سرپرستی حضرتِ والا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے قبول فرمائی تھی اور اس کا نام بیت العلوم رکھا اور ارشاد فرمایا کہ سرائے کی مناسبت سے اس کا نام بیت العلوم یا دارالعلوم رکھنا چاہتا ہوں، لیکن بیت العلوم میں چو ں کہ انکسار زیادہ ہے، اس لیے اس کا نام بیت العلوم رکھتا ہوں ؎ ہر کجا پستی است آب آنجا رود اللہ تعالیٰ اس کو دارالعلوم بنادیں۔اس مدرسے کے متعلق حضرتِ والا کے نام حضرت مولانا تھانوی قدس سرہٗ کا جو والا نامہ صادر ہوا تھا، اس کی نقل یہ ہے اور اصل مکتوبِ گرامی مدرسہ بیت العلوم سرائے میر میں موجود ہے۔نقل مکتوب حضرت تھانوی بنامِ حضرت والا پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ مشفقی و مخلصی مولانا شاہ عبدالغنی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ نے ضرورت کو محسوس کرکے ایسا مدرسہ قائم کیا۔ میں ایسے مدرسے کی سخت ضرورت سمجھتا ہوں اور اس کے قائم ہونے سے بہت مسرور ہوں اور اس کے استحکام اور ناصرِ دین حق ہونے کی دعا کرتا ہوں اور اس کی اعانت کو واجب سمجھتا ہوں اور اعانت کی تحریک کو دلالت علی الخیر سمجھتا ہوں اور