معرفت الہیہ |
س کتاب ک |
|
اپنی نافرمانیوں کے سبب غضبِ الٰہی کے مستحق ہیں اور جنہوں نے گمراہی کا راستہ اختیار کیا ہے ان لوگوں کا راستہ اگر اختیار کرو گے تو چوں کہ ان کا راستہ جہنم تک پہنچا ہوا ہے ان کی اتباع کی نحوست تم کو بھی جہنم تک پہنچادے گی۔دین سَر اپا رحمت اور سَراپا نعمت ہے دین سراپا رحمت اور سراپا نعمت ہے، دین کا ہر قانون محبت کی حلاوت رکھتا ہے، لیکن دین کی حلاوت اور مٹھاس کو ان سے پوچھو جن کے دل میں دین کی حلاوت ہے، جنہوں نے اپنے کو اور اپنے اللہ کو پہچان لیا ہےیعنی اپنا بندہ ہونا جان لیااور حق تعالیٰ کا معبود ہونا سمجھ گئے۔ دین انعامِ الٰہی ہے، اور انعام کی قدر اسی کو معلوم ہوتی ہے جو انعام سے نوازا جاتا ہے، پس انعام والے بندوں کی صحبت اختیار کرنے پر دین کی اور اللہ کی قدر معلوم ہوتی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: خِیَارُکُمْ مَّنْ ذَکَّرَکُمْ بِاللہِ رُؤیَتُہٗ، وَزَادَ فِیْ عِلْمِکُمْ مَنْطِقُہٗ، وَرَغَّبَکُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ؎ تم میں سب سے اچھا وہ شخص ہے کہ اس کی طرف دیکھنا تم کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلاوے۔ (یعنی اس کی زیارت اور قرب میں یہ خاصیِت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ ہوجاتی ہے) اور اس کی گفتگو تمہارے علم میں ترقی کرے، (یعنی وہ جب کلام کرتا ہے حکمت و علم کا کلام کرتا ہے، اس سے سننے والوں کے علم میں ترقی ہوتی ہے) اور اس کا عمل تم کو آخرت کی رغبت بڑھادے (یعنی اس کے اعمالِ صالحہ کو دیکھ کر اس کی رغبت بڑھتی ہے کہ ہم بھی نیک کام کریں کہ آخرت میں نافع ہوں) ۔نعمتِ دین کو زحمت سمجھنے کی وجہ جو لو گ دین کو زحمت سمجھتے ہیں تو اس کی وجہ بُری صحبت ہے۔ بُری صحبت، ------------------------------