معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
جو تجھ کو اندر نہیں آنے دیتا۔ عاشقم من برفنِ دیوانگی سیرم از فرہنگ و از فرزانگی میں دیوانگی کے فن پر عاشق ہوں، میں فرزانگی اور عقل کی باتوں سے سیر ہوچکا ہوں۔ دین من ازعشق زندہ بودن است زندگی زیں جان و سرننگِ من است میرا دین عشق سے زندہ رہتا ہے،اس جان و سر کے ساتھ زندگی میرےلیے ننگ ہے۔ گر مرا صد بار تو گردن زنی ہمچو شمعم برفروزم روشنی اے محبوب! اگر تو صد بار میری گردن مارے تو میں شمع کی طرح روشنی اور ہی زیادہ کروں گا۔ چناں چہ جلتے ہوئے چراغ کی بتّی اوپر سے جب کاٹ دی جاتی ہے تو روشنی اور بڑھ جاتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب حق تعالیٰ شہداء سے سوال فرمائیں گے کہ تم جنت میں کیا چاہتے ہو؟ تو عرض کریں گے: میاں! تمنّا یہی ہے کہ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ؎۔ تمنّا یہ ہے کہ پھر سے زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر آپ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر آپ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، بس یہی دَور چاہتا ہوں۔ اُقْتُلُوْنِیْ اُقْتُلُوْنِیْ اَیْ ثِقَات اِنَّ فِیْ قَتْلِیْ حَیَاۃً فِیْ حَیَات سر کے کٹنے کا مزہ یحییٰ ؑسے پوچھ لطفِ تن چرنے کا زکریؑا سے پوچھ ------------------------------