معرفت الہیہ |
س کتاب ک |
|
کارِ یزداں را نمی بینند عام می نیاسایند از کد صبح و شام مولانا فرماتے ہیں چوں کہ عوام اس حقیقت سے یعنی مسبّبِ حقیقی کے تصرّفات سے بے خبر ہیں، اس لیے عوام اسبابِ دنیویہ کے اختیار کی محنت اور مشقت سے صبح و شام آسودہ نہیں ہوتے ہیں۔عارفین کی عدمِ کاوش فی الاسباب کی وجہ اس تقریر کی تفصیل یہ ہے کہ اہل اللہ کے سارے کام بوعدۂ نصِّ قطعی بآسانی ہوجاتے ہیں، یعنی تقویٰ کی برکت سے اُن کے ضروری مقاصد کے لیے وہ اسباب قریب کردیے جاتے ہیں جو علمِ الٰہی میں ثمر آور ہوتے ہیں، یعنی مقصود تک پہنچانے والے ہیں اور ان اسباب کی مشقت سے ان کو محفوظ کردیاجاتا ہے جو علمِ الٰہی میں بے ثمر اور غیر مفید ہوتے ہیں۔ وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا ۙ﴿۲﴾وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ ؕ اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا ہے۔ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ ؕ؎ اور جو اللہ پر توکّل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے۔ کیوں کہ متقین بندوں کو حق تعالیٰ شانہٗ نے قرآنِ پاک میں اپنا دوست فرمایاہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ ؎ ------------------------------