معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
حق تعالیٰ کی صَنعَتِ عجیبہ خاک را رنگ وفن و شنگے دہد طفل خوباں ر ابداں جنگے دہد حق تعالیٰ اپنی صنعت سے خاک کو رنگ اور ڈھنگ اور شنگ دیتے ہیں، یعنی اس خاک میں رعنائی اور زیبائی دیتے ہیں، پس اطفال خصلت لوگ خاک کے ظاہری نقش و نگار پر جنگ کرتے ہیں ؎ از خمیرے اشتر وشیرے پزند کودکاں از حرصِ آں کف می زنند والدین آٹے کا اونٹ اور شیر پکاتے ہیں، لڑکے اس اونٹ اور شیر کی صورت دیکھ کر حرص سے اپنا ہاتھ چوستے ہیں ؎ شیرو اشتر ناں شود اندر دہاں در نگیرد ایں سخن با کودکاں آٹے کا وہ شیر اور اُونٹ منہ میں جاکر روٹی ہوجاتا ہے، مگر یہ بات لڑکوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔انسان درحقیقت کب بالغ ہوتا ہے خلق اطفال اند جُز مَستِ خُدا نیست بالغ جُز رہیدہ از ہوا مخلوق سب کے سب بچے ہیں اگرچہ باعتبار عجز کے بوڑھے ہی ہوں بجز مستانِ خدا کے، کیوں کہ انسان جب تک خواہشاتِ نفسانیہ سے خلاصی نہ پالے اس وقت تک بالغ نہیں ہوتا ،یعنی بالغ ہونے کا اصل مفہوم کامل العقل ہونا ہے، اس مفہوم کا مصداق وہ بلوغ ہوتا ہے جو اللہ والوں کو مجاہدہ و ریاضت سے نصیب ہوتا ہے، یعنی شیخِ کامل کی صحبت اور