معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
ایک مشہور شعر سے غلط فہمی اور اس کا جواب درمیانِ قعرِ دریا تختہ بندم کردۂ بازمی گوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش تو درحقیقت اس شعر کو حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف خطاب کرنا سخت گستاخی ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؎ اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بار نہیں رکھتے ہیں۔ ہم لوگ علائقِ غیر ضروریہ سے اپنے قلب کو مقیّد کرکے ذکر اللہ سے اپنے کو غافل کردیتے ہیں، پھر یہ شکایت کرتے ہیں کہ معمولات میں سُستی اور ناغہ ہوجاتا ہے اور ہمارا دل ہمیں مخاطب کرکے کہتا ہے:او نادان! ؎ درمیانِ قعر ِ دریا تختہ بندم کردۂ باز می گوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش ہمارا دل مستحق ہے اس بات کا کہ وہ ہمیں اس شعر سے خطاب کرے، اس شعر کا اصلی مصداق ہمارا نفس ہے، ہم خود ایسے اسبابِ غفلت میں اپنے کو گھیر لیتے ہیں جو ہمیں ذکر اللہ کے لیے فرصت نہیں دیتے،یہی راز ہے جو حق تعالیٰ نے وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِمُعْرِضُوْنَ؎ کو خشوع فی الصّلٰوۃکی آیت کے بعد ارشاد فرمایا ہے، یعنی نماز میں خشوع ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو لوگ تمام لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔نماز میں خشوع کی تعریف خشوع کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی عظمت کا ایسا دھیان غالب ہوجائے جس سے بندہ دب جائے، نماز میں کھڑا ہے تو اللہ کی عظمت کے سامنے دبا ہوا کھڑا ہے، رکوع ------------------------------