معرفت الہیہ |
س کتاب ک |
|
کر، تا کہ اخلاقِ رذیلہ اخلاقِ حمیدہ سے بدل جائیں، اور دشمنوں کو یعنی نفس و شیطان کو اس صناعت یعنی کیمیائے مذکور سے دوست کرلے، تاکہ تیرا نفسِ امارہ نفسِ مطمئِنّہ ہوجائے اور شیطان مشابہ دوست کے ہوجائے عدمِ اضلال میں(لِاِسْتِثْنَاءِہِ الْمُخْلِصِیْنَ مِنَ الْاِغْوَاءِ) چوں شدی زیبا بداں زیبا رسی کہ رہاند رُوح را از بےکسی جب تیرے اخلاقِ رذیلہ شیخِ کامل کی اصلاح سے اخلاقِ حمیدہ سے بدل جائیں گے تو تُو جمیل ہوجائے گا، اور جب جمیل ہوجاوے گا تو اس جمیلِ حقیقی تک پہنچ جاوے گا : لِاَنَّہٗ جَمِیْلٌ وَّیُحِبُّ الْجَمَالَ؎ اس لیے کہ حق تعالیٰ شانٗہ جمیل ہیں اور جمال کو پسند فرماتے ہیں۔ حق تعالیٰ ایسے جمیل ہیں کہ روح بےکسی سے چھڑادیتے ہیں، یعنی اپنی معیّت نصیب فرمادیتے ہیں، بخلاف محبوبانِ دنیا کے کہ اپنے محبّین سے اعراض اور کنارہ کرتے ہیں۔ نَے ہمہ مُلکِ جہانِ دُوں دہد صد ہزاراں ملک گوناگوں دہد یہی نہیں کہ وہ کل دنیائے دُوں ہی کا ملک دیتے ہیں کیوں کہ یہ تو متاعِ قلیل ہے بلکہ لاکھوں ملک گو ناگوں دیتے ہیں، کہ وہ خیرِ کثیر ہے، یعنی معرفت و محبت کی دولت عطا فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کا طریقہ محبت پر ایک واقعہ یاد آیا، جس کو ہمارے حضرت مرشد پاک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا۔پیلی بھیت کے ایک بزرگ مولا شیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کانپور تشریف لائے تھے۔ ہمارے حضرت رحمۃ اللہ علیہ ان کی خدمت میں تشریف لے گئے، ------------------------------