معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
نازم بچشم خود کہ جمالِ تو دیدہ است افتم بپائے خود کہ بکویت رسیدہ است میں اپنی ان آنکھوں پر ناز کرتا ہوں کہ انہوں نے آپ کا جمال دیکھا ہے اور اپنے پاؤں پر گرتا ہوں کہ آپ کی گلی میں پہنچے ہوئے ہیں۔ وہ باخبر جب اس محبوبِ حقیقی کی تعریف زبانِ عشق سے کرے گا تو اس کا حال تم کو بھی صاحبِ حال بنادے گا ؎ جو آگ کی خاصیت وہ عشق کی خاصیت اک خانہ بخانہ ہے اک سینہ بہ سینہ ہے الغرض وہ دونوں بادشاہ اللہ کی محبّت میں دیوانے ہوکر وہاں سے بہت دور چلے گئے۔ اس کے بعد مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عشق نے یہ گناہ ایک ہی بار نہیں کیا۔ ان دونوں بادشاہوں کے علاوہ بہت سے بے شمار بادشاہ ایسے گزرے ہیں جن کو عشقِ حقیقی نے ملک اور خاندان سے جدا کردیا ہے ؎ آنکہ ترا شناخت جاں را چہ کند فرزند و عیال و خانما ر ا چہ کندبیانِ عشق از محبت شاہ بندہ می شود و ز محبّت مُردہ زندہ می شود از محبت تلخ ہا شیریں شود و ز محبت مسہا زریں شود محبت سے شاہ بندہ ہوجاتا ہے اور محبت سے مردہ زندہ ہوجاتا ہے۔ محبت سے ساری تلخیاں شیریں ہوجاتی ہیں اور محبت سے تانبا سونا ہوجاتا ہے۔