معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
میرا عشق تو ظاہر ہے مگر میرا محبوب پنہاں ہے، یار تو بیروں ہے لیکن تصرفات ان کے جہاں میں پھیلے ہیں۔ عشق آں شعلہ است کوچوں بر فروخت ہر چہ جُز معشوق باقی جملہ سوخت عشق وہ شعلہ ہے کہ جب دل میں روشن ہوتا ہے تو ماسوائے محبوب کو جلادیتا ہے اور صرف عشقِ محبوب رہ جاتا ہے۔ عاشقی پیداست از زارئ دل نیست بیماری چو بیمارئ دل عاشقی زاریٔ دل سے پیدا ہوتی ہے، دل کی بیماری جیسی بیماری نہیں ہے۔ مراد اس بیماری سے مرضِ عشق ہے کہ وہ دل ہی میں پیدا ہوتا ہے۔ نعرۂ مستانہ خوش می آیدم تا ابد جاناں چنیں می بایدم نعرۂ مستانہ مجھ کو خوش آتا ہے، ابد تک اے محبوب! ایسا ہی چاہتا ہوں۔ غیر آں زنجیر زلفِ دلبرم گر د و صد زنجیر آری بردرم غیر اس زنجیر زلفِ دلبر کے اگردو سو زنجیر لائے گا تو میری دیوانگی ان سب کو توڑ دے گی۔یعنی مرضِ عشق کی برکت سے اب کثرتِ علائقِ فانیہ میرے لیے حجاب نہیں ہوسکتے، عشق ِحق ماسوائے حق میں مشغول نہیں ہونے دیتا۔ ایک قصہ یاد آیا، حضرتِ والا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ بے نمازی رئیس کا کوئی ملازم بہت دیندار تھا، وہ مسجد میں حق تعالیٰ کی عبادت میں مشغول تھا، اس کے آقا نے مسجد کے دروازے پر آواز دی کہ او فلاں!یہاں آ، اس نے جواب دیا کہ ابھی آنے نہیں دیتے، اس نے غصّے سے کہا: کون تجھ کو باہر نہیں آنے دیتا؟ اس ملازم نے جواب دیا کہ