معرفت الہیہ |
س کتاب ک |
|
فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین اس بارے میں بہت چُوکے کہ اپنے دشمن کو اپنی بغل میں پالا،اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام صندوق سے نکال کر فرعون کے پاس لائے گئے تو فرعون کی بی بی حضرت آسیہ نے فرعون سے کہا کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، یعنی اس کو دیکھ کر جی خوش ہوا کرے گا، تو اس کو قتل مت کر، عجب نہیں کہ بڑا ہوکر ہم کو کچھ فائدہ پہنچادے یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں۔ اور ان لوگوں کو انجام کی خبر نہ تھی کہ یہ وہی بچہ ہے جس کے ہاتھ فرعون کی سلطنت غارت ہوگی۔ ادھر یہ قصہ ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا دل خیالاتِ مختلفہ کے ہجوم سے بے قرار ہوگیا،اور بے قراری بھی ایسی ویسی نہیں بلکہ ایسی سخت بے قراری کہ قریب تھا کہ غایت بے قراری سے وہ موسیٰ علیہ السلام کا حال سب پر ظاہر کردیتیں اگر ہم ان کے دل کو اس غرض سے مضبوط نہ کیے رہیں کہ یہ ہمارے وعدے پر یقین کیے بیٹھی رہیں۔ غرض بہ مشکل انہوں نے دل کو سنبھالا اور تدبیر شروع کی۔ وہ یہ کہ انہوں نے موسی علیہ السّلام کی بہن یعنی اپنی بیٹی سے کہا: ذرا موسیٰ کا سُراغ تو لگا ۔ سو وہ چلیں،اور یہ معلوم کرکے کہ صندوق محل میں کُھلا ہے محل میں پہنچیں، اور موسیٰ علیہ السلام کو دور سے دیکھا اور ان لوگوں کو یہ خبر نہ تھی کہ یہ ان کی بہن ہیں اور اس فکر میں آئی ہیں،اور ہم نے پہلے ہی سے یعنی جب سے صندوق سے نکلے تھےموسیٰ علیہ السّلام پر دودھ پلانے والیوں کی بندش کر رکھی تھی یعنی کسی کا دودھ نہ لیتے تھے۔سو وہ اس حال کو دیکھ کر موقع پاکر کہنے لگیں: کیا میں تم لوگوں کو کسی ایسے گھرانے کا پتا بتاؤں جو تمہارے لیے اس بچے کی پرورش کریں اور دل سے اس کی خیر خواہی کریں؟ان لوگوں نے ایسے وقت میں کہ دودھ پلانے کی مشکل پڑ رہی تھی اس مشورے کو غنیمت سمجھا اور ایسے گھرانے کا پتا پوچھا۔ انہوں نے اپنی والدہ کا پتا بتادیا۔ چناں چہ وہ بلائی گئیں،اور موسیٰ علیہ السّلام اپنی والدہ کی گود میں دےدیے گئے اور جاتے ہی دودھ پینا شروع کردیا،اور ان لوگوں کی اجازت سے چین سے اپنے گھر لے آئیں۔ گاہے گاہے لے جاکر ان کو دکھلا آتیں۔