معرفت الہیہ |
س کتاب ک |
|
قصۂ حضرت خضر اورحضرت موسیٰکے متعلق تفسیری لطائف اس مقام پر ایک عجیب بات یاد پڑی۔ ایک مفسّر علی مہائمی گزرے ہیں۔ ان کی قبر بمبئی میں ہے۔ میں ان کے مزار پر حاضر ہوا ہوں۔ اپنی تفسیر’’مہائمی‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کے جن افعال پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اشکال ہوا وہ سب امور خود اُن پر بیت چکے تھے۔ اگر اپنے اندر غور کرتے تو ہر اشکال کا حل خود اپنے اندر موجود پاتے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ جس کشتی میں چھید کردینے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اشکال ہوا کہ اب اس کشتی کے سوار ہلاک ہوجائیں گے تو خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے بحکمِ خدا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے تو ایک صندوقچے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بند کرکے دریا میں ڈال دیا تھا، کیوں کہ فرعون کو نجومیوں نے یہ خبر دی تھی کہ اس سال بنی اسرائیل میں ایک بچہ ایسا پیدا ہوگا جو تیری ہلاکت اور زوالِ سلطنت کا سبب ہوگا۔ پس اس ظالم نے حکم جاری کر رکھا تھا کہ اس سال بنی اسرائیل میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کردیے جائیں۔ حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی والدہ کو الہام فرمایا کہ جب تک ان کا اخفا ممکن ہو تم ان کو دودھ پلاؤ، پھر جب تم کو اس کی نسبت جاسوسوں کے مطلع ہونے کا اندیشہ ہو تو بے خوف و خطر ان کو صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دینا اور تم نہ تو ان کے غرق ہونے سے اندیشہ کرنا اور نہ مفارقت پر غم کرنا، کیوں کہ ہم ضرور ان کو تمہارے ہی پاس واپس پہنچادیں گے، پھر اپنے وقت میں ان کو پیغمبر بنائیں گے۔ غرض وہ اسی طرح دودھ پلاتی رہیں،پھر جب افشائے راز کا خوف ہوا تو صندوق میں بند کرکے اللہ کے نام پر دریائے نیل میں چھوڑ دیا۔ اس کی کوئی شاخ فرعون کے محل میں جاتی تھی یا تفریحاً فرعون کے متعلقین دریا کی سیر کو نکلے تھے۔ غرض وہ صندوق کنارےپر لگا تو فرعون کے لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کو مع صندوق کے اٹھالیا،تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے دشمن اورغم کا باعث بنیں۔ بلاشبہ