معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
اللہ کی بندگی سلطانی سے بہتر ہے، اپنے کو اچھا سمجھنا شیطانی سانس ہے۔ عشق را نا زم کہ یوسفؑ را ببا زار آورد ہمچوں صنعا زاہدے را ز یر زُنار آورد کچھ ہی دن گزرے تھے کہ لوگوں نے بادشاہِ تبوک سے کہا کہ بادشاہوں میں سے ایک بادشاہِ عرب امرأالقیس یہاں فقیری کی حالت میں آیا ہےاور وہ شکارِ عشق ہوگیا ہے اوراینٹیں بناتا ہے۔ یہ سن کر بادشاہ اٹھا اور امرأالقیس کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے بادشاہ ِ خوبرو! تو یوسفِ وقت ہے۔ تیرے پاس دو ملک کامل ہیں، ایک تو تُو ایک سلطنت کا مالک ہے، دوسرے تیرے پاس جمال بھی ہے، ہماری خوش نصیبی ہوگی کہ آپ ہمارے پاس رہیں ؎ پیش ما باشی کہ بختِ ما بود جانِ ما از وصلِ تو صد جاں شود (عارف رومی ؒ ) تو ایسا عالی ہمت ہے کہ تیری ہمت میں بہت سے ملک متروک ہیں۔ الغرض دیر تک ایسی گفتگو کی کہ امرأالقیس شاہ ِتبوک کے یہاں رہنے کے لیے تیار ہوجائے اور وہ خاموش سنتا رہا، اچانک اس نے اپنا نقاب کھولا اور بادشاہ ِتبوک کے کان میں نہ جانے کیا عشق اور درد کی بات کہہ دی کہ اپنی طرح فوراً اس کو بھی سرگرداں اور دیوانہ کردیا ؎ نہ تنہا عشق از دیدار خیزد بسا کیں دولت از گفتار خیزد عشق محض دیکھنے ہی سے نہیں پیدا ہوتا، بسا اوقات یہ دولت دوسروں سے سن کر بھی ہاتھ لگ جاتی ہے۔ اَلرَّحۡمٰنُ فَسۡـَٔلۡ بِہٖ خَبِیۡرًا ؎ کا یہی راز ہے۔ رحمٰن کی شان کو کسی با خبر سے پوچھو جو اُن کی گلی میں چلا ہوا ہے ؎ ------------------------------