معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
عطا کردے قوّت تجھے غیب سے ہو نصرت تِری پردۂ غیب سے نہ بٹّہ لگے گا تِری شان میں نہ فرق آئے گا کچھ تری آن میں اگر جسم تیرا ذرا ہو علیل حکیموں کی سنتا ہے تو بے دلیل دوا تلخ سے تلخ پیتا ہے تو خوشامد طبیبوں کی کرتا ہے تو مداوائے تن میں تو تُو چست ہے مگر فکرِ ایمان میں کیوں سُست ہے تری عقل دنیا میں کیا کر گئی مگر دین میں وہ کہاں مر گئی نہ خود اپنی جو فکر درماں کرے خدا کیا ہدایت چَسْپاں کرے بڑے شرم کی بات ہے دوستو کہ اتنی بھی ہمّت نہ تم کر سکو اگریوں ہی غفلت میں گزری حیات نتیجہ بُرا ہوگا بعد الممات ہوسہل اس سے صورت کوئی آہ کیا بھلا اس سے آسان ہو راہ کیا