معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
ما بری از پاک و ناپاکی ہمہ و ز گراں جانی و چالاکی ہمہ ما بروں را ننگریم و قال را ما دروں را بنگریم و حال را ناظرِ قلبیم گر خاشع بود گر چہ گفت لفظ نا خاضع بود موسیا آدابِ دانا دیگر اند سوختہ جانِ رواناں دیگر اند گر خطا گوید و را خاطی مگو گر بو د لو خوں شہید ا و را مشو خوں شہیداں را ز آب اولیٰ تر است ایں خطا از صد صواب اولیٰ تر است تو ز سرمستاں قلادزی مجو جامہ چاکاں را چہ فرمائی رفو ’’حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ! آپ نے میرے بندے کو مجھ سے جُدا کردیا، آپ کا کام بندوں کو حق تعالیٰ سے واصل کرنا ہے، نہ کہ جُدا کردینا،حتی الامکان فراق کے اندر قدم نہ رکھیے، یعنی سببِ فراق نہ بننا چاہیے، ابغض المباحات میرے نزدیک طلاق ہے، ہر شخص کو میں نے علیحدہ علیحدہ سیرتیں عطا فرمائی ہیں، ہر ایک کے لیے الگ الگ اصطلاحیں مقرر فرمادی ہیں،اس نادان چرواہے کے حق میں وہی کلمات میری تعریف میں تھے، اور آپ کے لیے یعنی اہلِ عقل و علم کے لیے وہ کلمات نا پسندیدہ اور مبغوض ہیں۔ اس کے حق میں وہی کلماتِ محبت شہد کے حکم میں ہیں اور آپ کے حق میں زہر ہیں۔ اس کے حق میں وہ کلمات نور ہیں، آپ کے حق میں نار