معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
بندوں کے ساتھ تو ان کا معاملہ وہ تھا جو بیان ہوا کہ کہیں سے عبدیت کی شان میں فرق نہیں آنے پاتا اور اپنے خالق و معبودِحقیقی کے ساتھ ان کا یہ معاملہ ہے کہ شدّتِ محبّت کے سبب رات کے منتظر رہتے ہیں کہ کب سورج ڈوبے اور ہم دن کے جھگڑوں سے فارغ ہوکر فراغِ قلب سے اپنے محبوبِ حقیقی کی یاد میں لگ جائیں۔ اس آیت میں سجدے کو قیام پر مقدم فرمایا ہے، حالاں کہ قیام پہلے ہوتا ہے، سجدے کا وقوع بعد از قیام ہوتا ہے، تو اس تقدیم میں حق تعالیٰ نے ان کی ایک باطنی کیفیت یعنی ان کی شدّتِ محبت کو بیان فرمایا ہے کہ یہ باخبر بندے میرے درپر جبیں سائی کے لیے اور اپنے کو مٹانے کے لیے حالتِ قیام ہی سے مشتاق اور منتظر رہتے ہیں، یعنی ہیں تو قیام میں لیکن دل سجدے کا منتظر ہے کہ کب وقت آئے گا کہ اپنے اللہ کے سامنے اپنی پیشانی زمین پر رکھ کر اپنے کو مٹادوں، اور قاعدہ ہے کہ اِنْتِظَارُالصَّلٰوۃِ مِنَ الصَّلٰوۃِ یعنی نماز کے انتظار میں جو ہوتا ہے وہ نماز کے اندر شمار ہوتا ہے،اس کو ثواب نماز کا ملتا ہے۔ پس حالتِ قیام میں انتظارِ سجدہ کے سبب حق تعالیٰ نے ان کو سجدے ہی کے حکم میں فرمادیا۔ اس آیت میں میاں نے اپنے باخبر بندوں کی خاطر فرمائی ہے کہ اگرچہ ابھی سجدے میں نہیں گئے لیکن سجدے کے انتظار میں تو ہیں ، اس کی رعایت سے سُجَّدًا کو قِیَامًاپر مقدم فرمادیا۔ راتوں میں اللہ والوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جو لُطف آتا ہے اس کو دوسرا کیا جان سکتا ہے، کیوں کہ وہ لذّت ایک مخفی راہ سے حق تعالیٰ عطا فرماتے ہیں ؎ درمیانِ شمس و دین روشن رہے ہست روزنہا نشد زاں آگہے اس آفتابِ حقیقی اور ان کے قلب کے درمیان میں ایک مخفی راستہ ہے جس سے حق تعالیٰ کے نفحاتِ کرم پے درپے آتے رہتے ہیں،دوسرے لوگ اس دریچۂ باطنی سے آگاہ نہیں ہیں۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ۫ وَّ مِمَّا