معرفت الہیہ |
§س کتاب ک |
|
جلد حق تعالیٰ کے راستے کو قطع کرتا ہے، اور جب کسی سالک کا خط آتا کہ حضرت!آج کل قبضِ باطنی سے دل غمگین رہتا ہے، تو تحریر فرمادیتے کہ دلگیر نہ ہوں، یہ حالتِ قبض من جملہ حالاتِ رفیعہ سے ہے، اگر ہمیشہ بسط کی حالت طاری رہے تو انسان عُجب و پندار میں مبتلا ہوجائے۔ تربیت کا مقتضی یہی تھا کہ نِسیان کو عصیان سے تعبیر فرمادیا جائے، کیوں کہ وہ ربّ بھی ہیں اور حکیمِ مطلق بھی ہیں، ان کی تربیت حکمت کے ساتھ ہوتی ہے۔ تربیت کہتے ہیں کسی شے کو تدریجاً اس کے اُس درجۂکمال کو پہنچادینا جو درجہ کہ علمِ الٰہی میں بر بنائے حکمتِ الٰہیہ اس شئے کے لیے تجویز ہوچکا ہے۔ وَ عَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ میں جو ربوبیت ہے اسی شانِ ربوبیت کو حق تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السّلام کے قلبِ مبارک پر منکشف فرمادیا: فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ؎ بعد ازاں حاصل کرلیے آدم علیہ السّلام نے اپنے رب سے چند الفاظ۔ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ﴿۲۳﴾ اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا، اگر آپ ہماری مغفرت نہ فرمائیں گے اور ہم پر رحم نہ فرمائیں گے تو ہم بڑے ٹوٹے میں پڑجائیں گے۔ اس دعا میں بھی صِفتِ ربوبیت کی تلقین فرمائی گئی ؎ عجیب لطائف علومِ قرآں کے ہیں جب چاہتے ہیں پردہ اٹھادیتے ہیں مخدرات سراپردہ ہائے قرآنی چہ دلبراند کہ دل می برند پنہانی ------------------------------